ڈیل ہو یا نہ ہو، ایران سے جنگ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ

ڈیل ہو یا نہ ہو، ایران سے جنگ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ

مشرقِ وسطیٰ میں ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے حوالے سے صورتحال دن بہ دن پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جاری تنازع آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے، اور اس کے لیے ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کسی بڑے فوجی مداخلت یا معاہدے کے بغیر بھی خطے میں کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔دوسری جانب، ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے فیول ٹینکوں میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوا۔ اس واقعے سے یہ واضح ہوا کہ خطے میں موجودہ جنگی حالات نہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک کی سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔اسرائیل اور امریکا کی فضائی کارروائیاں ایران کے مختلف صنعتی اور دفاعی اہداف پر جاری ہیں۔ اصفہان اور فرخشہر میں دوا ساز کمپنیوں اور اسٹیل پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے مقامی انفراسٹرکچر اور معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات پر اعتماد نہیں، اور واشنگٹن کی جانب سے موصول پیغامات کے باوجود کوئی باضابطہ مذاکرات اس وقت جاری نہیں ہیں۔اسی دوران لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں گھروں کو مسمار کرنے اور لاکھوں بے گھر لبنانی شہریوں کو واپس آنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا، جس سے انسانی بحران کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کے لیے خطرناک ہے بلکہ عالمی امن، معیشت اور تیل کی سپلائی پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔