پنجاب کی جیلوں میں 578 مرد قیدی اور 9 خواتین قیدی موجود ہیں ‘ ان میں سے 515 انڈر ٹرائل ہیں جبکہ ایک نابالغ بھی ہے
یہ قیدی 295 اے، 295 بی اور 295 سی کے تحت گرفتار ہیں‘ 2 ہزار 119 مرد اور 16 خواتین ریپ کے مقدمات میں قید ہیں
لاہور( کاشف بٹ)پنجاب کی جیلوں میں قید 1200خواتین ، 853کم سن بچے اور 66ہزار 3سو 30مرد قیدی عید جیلوں میں ہی منائیں گے جیلوں میں گنجائش سے ڈبل قیدی ہونے کا انکشاف، پنجاب بھر کی جیلوں میں 37 ہزار 563 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ 43 جیلوں میں68ہزار3سو 83قیدی بند ہیں۔محکمہ جیل خانہ جات کے ریکارڈ کے مطابق صوبہ بھر کی جیلوں میں کل833کمسن بچے قید ہیں جن میں سے سینٹرل جیل گوجرانولہ میں 25، ڈسٹرکٹ جیل قصور میں15، ڈسٹرکٹ جیل لاہور میں 44، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں 31، ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں 10، ڈسٹرکٹ جیل ناروال میں 4، ڈسٹرکٹ جیل حافظ آباد میں 7، سنٹرل جیل ساہیوال میں 12، ڈسٹرکٹ جیل اوکاڑہ میں 4، ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن میں 8، سنٹرل جیل روالپنڈی میں69، ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں 13، ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں 16، ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں 13، ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاالدین میں 16، سب جیل چکوال میں 1، بی ون اینڈ جے فیصل آباد میں 131،ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں 16، ڈسٹرکٹ جیل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 10، ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں 17، ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور میں 7، ڈسٹرکٹ جیل بھکر میں 6، ایچ ایس پی میانوالی میں 12، سینٹرل جیل ملتان میں 23، ڈسٹرکٹ جیل وہاڑی میں 25، بی آئی اینڈجے بہالپور میں 44، ڈسٹرکٹ جیل رحیم یار خان 12،ڈسٹرکٹ جیل لودھراں میں 10،ڈسٹرکٹ جیل بہاولنگر23، سینٹرل جیل ڈی جی خان31 شامل ہیں اسی طرح 43جیلوں میں 12سو خواتین جن میں سے سینٹرل جیل لاہور میں 244، سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں 73، ڈسٹرکٹ جیل قصور میں 9، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں 53، ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں 40، ڈسٹرکٹ جیل ناروال میں 1، سینٹرل جیل ساہیوال میں 13، ڈسٹرکٹ جیل اوکاڑ ہ میں 24، ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن میں 8، سینٹرل جیل راولپنڈی میں 180، ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں 18، ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں 46، ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں 35،ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد 62، ڈسٹرکٹ جیل جھنگ میں 13، ڈسٹرکٹ جیل ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 10، ڈسٹرکٹ جیل میانوالی میں 1،ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں 6،ڈسٹرکٹ جیل شاہ پور میں 5، ڈسٹرکٹ جیل بھکر میں3،ڈسٹرکٹ جیل وہاڑی میں 9، وویمن جیل ملتان میں 44 ، سینٹرل جیل بہالپور میں 10، ڈسٹرکٹ جیل رحیم یار خان میں 15، ڈسٹرکٹ جیل لودھراں میں 3ڈسٹرکٹ جیل بہاولنگر میں 11، سینٹرل جیل ڈیرہ غازی خان میں 7اور لیہ میں 1خواتین قید ہیں اس کے علاوہ صوبہ بھر کی جیلوں میں قید مرد قیدیوں کی تعداد 66ہزار 3سو 30 ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق صوبے کی جیلوں میں قید خواتین میں سب سے بڑی تعداد منشیات کے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں۔دوسرے نمبر پر قتل کے مقدمے میں سزایافتہ خواتین کی تعداد 328 ہے۔ ان میں سے 228 پر مقدمات کی سماعت جاری ہے جبکہ 88 سزا یافتہ ہیں۔ ہائی سکیورٹی سیل اور بیرکس میں 6616 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، ہائی سکیورٹی سیل اور بیرکس لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور میانوالی میں قائم کئے گئے ہیں۔گزشتہ چودہ برسوں میں پنجاب کے 9 اضلاع میں 824 ڈیتھ سیل قائم کئے گئے ہیں، لاہور کی سینٹرل جیل میں سب سے زیادہ 312 ڈیتھ سیل بنائے گئے ہیں، 2010 کے بعد پنجاب میں 11 نئی جیلیں تعمیر کی گئیں، گیارہ مزید جیلیں تعمیر کرنے کے باوجود تاحال پنجاب کی جیلوں میں 80 فیصدذیادہ قیدی پابند سلاسل ہیں۔ ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق مرد قیدیوں میں سب سے بڑی تعداد قتل کے مقدمے میں آنے والوں کی ہے۔ 14 ہزار آٹھ سو 38 قیدی قتل کے مقدمے میں قید ہیں جن میں سے 6 ہزار 292 انڈر ٹرائل ہیں۔دوسرے نمبر پر بڑی تعداد ڈکیتی کے جْرم کی ہے۔ 6 ہزار 176 مرد ڈکیتی کے الزام میں قید ہیں جبکہ اسقاط حمل قانون کے تحت پنجاب کی جیلوں میں 163 مرد قید ہیں جن میں سے چھ کو سزا ہو چکی ہے توہین مذہب کے کیسز میں اس وقت پنجاب کی جیلوں میں 578 مرد قیدی اور 9 خواتین قیدی موجود ہیں اور ان میں سے 515 انڈر ٹرائل ہیں جبکہ ایک نابالغ بھی موجود ہے۔یہ قیدی 295 اے، 295 بی اور 295 سی کے تحت گرفتار ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں دو ہزار 119 مرد اور 16 خواتین ریپ کے مقدمات میں قید ہیں۔