امریکہ کی پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں نامناسب ہیں:دفترخارجہ

 افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی،امریکی کانگریس میں پاکستان مخالف بل دوطرفہ تعلقات کا عکاس نہیں
  افغان سرزمین پردہشتگردوں کی پناہ گاہوں کا مسئلہ اہم ہے، دہشت گرد پناہ گاہیں پاک افغان تعلقات میں سنگین رکاوٹ ہیں 
 اسلام آباد(آئی این پی )ترجمان دفتر خارجہ   شفقت علی خان نے واضح  کیا ہے  افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی،  افغان سرزمین پردہشتگردوں کی پناہ گاہوں کا مسئلہ اہم ہے، دہشت گرد پناہ گاہیں پاک افغان تعلقات میں سنگین رکاوٹ ہیں ،  امریکی کانگریس میں پاکستان مخالف بل دوطرفہ تعلقات کا عکاس نہیں ، امریکا کی پاکستان کی کمپنیوں پر پابندیاں نامناسب ہیں، امریکا کا ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم ماننا خوش آئند ہے، پاکستان کے اسرائیل پر موقف میں کوئی تبدیلی نہیں  آئی،روس اور یوکرین سیز فائر خوش آئند ہے، پاکستان کے دونوں ممالک سے اچھے تعلقات ہیں، بھارتی ریاستی دہشت گردی سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار میڈیابریفنگ  میں کیا ۔امریکا میں پاکستان کے خلاف پیش ہونے والے بل پر ردعمل کا اظہار کرتے ہو ئے  شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا میں پیش کیے گئے بل سے آگاہ ہیں۔ یہ ایک فرد کی جانب سے اٹھا گیا اقدام ہے۔ یہ بل پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کا عکاس نہیں ہے۔ امید کرتے ہیں کہ امریکی کانگریس دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کے لیے اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر امریکا کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں یکطرفہ ہیں۔ یہ پابندیاں ثبوتوں کے بغیر لگائی گئی ہیں۔پاکستانی صحافیوں کے دورہ اسرائیل پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ نہیں ہو سکتا۔ اس پہلے جو اسرائیل کے دورے ہوئے وہ ڈیول نیشنل  تھے۔ پاکستان کے اسرائیل پر موقف میں کوئی تبدیلی نہیں  آئی۔ترجمان کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ پر واضح تحریر ہے کہ یہ اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں ہے۔