نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے اپنی نئی کتاب "Finding My Way" کی رواں برس اکتوبر میں اشاعت کا اعلان کر دیا ہے۔
اس بات کا اعلان ملالہ نے ایک جذباتی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے کیا جس میں انہوں نے کتاب کے مندرجات، جذبات اور ذاتی جدوجہد کا اظہار کیا۔
کتاب کی نوعیت اور مرکزی تھیم:
ملالہ کے مطابق:
"یہ ایک بکھری ہوئی، سچائی سے بھرپور اور بعض اوقات تکلیف دہ حد تک مزاحیہ یادداشت ہے، جو میری ذاتی تلاش، دوستی، پہلی محبت، ذہنی صحت اور خود شناسی پر مبنی ہے۔"
انہوں نے مزید لکھا:"پندرہ برس کی عمر میں دنیا میرا نام جانتی تھی، لیکن کوئی مجھے نہیں جانتا تھا۔ یہ وہ کہانی ہے جو لوگ سمجھتے ہیں وہ نہیں، بلکہ وہ ہے جو میں برسوں سے سنانا چاہتی تھی۔"
ملالہ کی جدوجہد: ایک پس منظر
ملالہ نے اپنی تعلیم کے لیے جدوجہد سوات میں شدت پسندوں کے دور میں اس وقت شروع کی جب طالبات کے اسکول بند کیے جا رہے تھے
اس دوران وہ بی بی سی اردو بلاگ کے ذریعے دنیا کو حالات سے آگاہ کرتی رہیں
2012 میں ٹی ٹی پی کے قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئیں اور پھر برطانیہ منتقل کی گئیں
وہاں سے اُن کا سفر عالمی تعلیم، امن، خواتین کے حقوق اور مساوات کے پلیٹ فارم تک پھیل گیا
نوبیل انعام اور عالمی پہچان:
2014 میں ملالہ نے صرف 17 سال کی عمر میں نوبیل امن انعام حاصل کیا
وہ آج بھی 122 ملین ایسی لڑکیوں کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جو تعلیم سے محروم ہیں
اُن کا کہنا ہے:"میری جنگ اپنی تعلیم کے لیے شروع ہوئی، لیکن جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف میری نہیں، ہر اُس لڑکی کی جنگ ہے جو تعلیم کا حق رکھتی ہے۔"
کتاب سے جڑی توقعات:
"Finding My Way" کو صرف ایک خودنوشت نہیں بلکہ ملالہ کے اندر کے انسان کی جھلک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
کتاب میں کم عمری میں شہرت، تنہائی، مزاح، محبت، اور شناخت جیسے موضوعات کو نئے زاویے سے دریافت کیا گیا ہے
یہ کتاب نہ صرف نوجوانوں بلکہ ہر اُس فرد کے لیے اہم ہو سکتی ہے جو مشکل حالات میں اپنا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہے
نتیجہ:
"Finding My Way" محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ملالہ یوسفزئی کی روح کی داستان ہے۔ یہ اس لڑکی کی آواز ہے جو شدت پسندی کے خلاف کھڑی ہوئی، گولی کھائی، مگر پھر بھی دنیا کے لیے روشنی کا مینار بنی۔اب وہ ہمیں وہ پہلو دکھانے آ رہی ہیں، جو ابھی تک نظروں سے اوجھل تھے۔