غزہ میں امداد کے متلاشی شہریوں پر فائرنگ: اسرائیلی فوج نے تحقیقات کا آغاز کر دیا

غزہ میں امداد کے متلاشی شہریوں پر فائرنگ: اسرائیلی فوج نے تحقیقات کا آغاز کر دیا

اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ غزہ میں خوراک کی امداد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے فلسطینی شہریوں پر اپنی فوج کی جانب سے فائرنگ کے حالیہ واقعات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کر رہی ہے۔

اس پیش رفت کی ابتدا اسرائیل کے معتبر اخبار ہآریتز کی ایک تحقیقاتی رپورٹ سے ہوئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ IDF کے اہلکار خوراک کی تلاش میں جمع فلسطینی شہریوں پر مہلک فائرنگ کر رہے ہیں۔IDF نے تسلیم کیا کہ:"خوراک تقسیم مراکز تک پہنچنے والے شہریوں کو نقصان پہنچانے کے حالیہ واقعات کی روشنی میں، متعلقہ IDF حکام کی جانب سے ان واقعات کی جانچ کی جا رہی ہے۔"
 IDF کا موقف: کوئی ’جان بوجھ کر‘ حکم نہیں دیا گیا
فوج نے ہآریتز کی رپورٹ کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا کہ یہ حملے اوپر سے کسی کمانڈر کے احکامات پر کیے گئے۔IDF کا کہنا ہے:"آئی ڈی ایف نے فورسز کو جان بوجھ کر عام شہریوں پر گولی چلانے کی کوئی ہدایت نہیں کی، بلکہ اس کے قواعدِ عمل عام شہریوں پر حملے کی صریح ممانعت کرتے ہیں۔"
 پچھلے واقعات: فائرنگ کے وارننگ شاٹس کا اعتراف
اگرچہ IDF نے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے، اس نے بارہا وارننگ فائرنگ کا اعتراف ضرور کیا ہے، خاص طور پر ایسے افراد پر جو:

پہلے سے منظور شدہ راستوں سے ہٹ کر داخل ہو رہے تھے،
یا خوراک کی تقسیم کے مراکز بند ہونے کے بعد بھی وہاں موجود تھے۔
 GHF پروگرام اور حماس کی شکایت
27 مئی سے شروع ہونے والے امریکی امدادی پروگرام GHF کے دوران حماس کا دعویٰ ہے کہ:"امداد لینے یا خوراک کے ٹرکوں کا انتظار کرنے کے دوران 549 فلسطینی ہلاک اور 4,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔"فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس ان اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ GHF کے ذریعے امداد کی شفاف ترسیل اور حماس کے قبضے سے بچاؤ کے لیے امدادی راستوں کی سیکیورٹی پر کام کر رہی ہے۔

 تحقیقات کا دائرہ کار اور ممکنہ نتائج
IDF کے بیان کے مطابق، "ملٹری ایڈووکیٹ جنرل" نے اعلیٰ سطحی "جنرل سٹاف فیکٹ فائنڈنگ اسیسمنٹ میکانزم" کو ان واقعات کی تحقیقات کی ہدایت دے دی ہے۔فوجی بیان میں مزید کہا گیا:"قانون یا IDF کی ہدایات سے انحراف کے کسی بھی الزام کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی جائے گی، اور ضرورت کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔"
  پس منظر: انسانی بحران کی شدت
غزہ میں شدید غذائی قلت، تباہ حال انفراسٹرکچر اور مسلسل جنگی کارروائیوں نے لاکھوں شہریوں کو خوراک اور امداد کے حصول کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ ایسے میں ان پر فوجی فائرنگ کے الزامات نہ صرف انسانی حقوق کے بڑے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج ہیں۔