سیاحت اور ہمارا طرز عمل :

 نازیہ آصف 
" لوہے کا جوتا اور عصا بنائیں، زمیں میں چلیں اور اللہ پاک کی نشانیاں دیکھیں۔اس سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ یہاں تک کہ یہ جوتے پھٹ جائیں اور عصا ٹوٹ جائے"۔
امام قشیری رحمتہ اللہ علیہ
(الرسالہ القشیریہ۔ جز۔۔ 2۔۔ ص  452)
خالق کائنات نے یہ الفاظ کلیم اللہ سے تکلم کیے۔
قارئین ! لوہے کے جوتے اور عصا سے سیاحت کی ترغیب دینے سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔
اول۔۔۔خوب سیر کرو ،گھوموں پھرو ، مگر نکلنے سے پہلے اچھی طرح  تیاری کر کے نکلو
دوئم۔۔۔ قدرت کی اس عظیم محیرالعقول تخلیق "کائنات" پہ غور کرو جس کا ہر زرہ اپنے خالق کی صناعی کا گواہ ہے۔
سیاحت کے ویسے تو ان گنت فوائد ہیں لیکن اگر انسان اپنی نیت تخلیق کائنات کے مقاصد اس کی صناعی کو سراہنے  اور گزری اقوام کے آثار سے عبرت پکڑنے کی رکھے تو سیرو تفریح کے ساتھ ساتھ رضائے خداوندی بھی پا سکتا ہے۔
 شیخ ابو قالب مکی فرماتے ہیں:
"سفر کی نیت ،اصلاح قلب ، ریاضت نفس اور انکشافات حال ہونی چاہیے "۔
اس ساری تمہید کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاحت کا ہمارے ہاں مفہوم کیا ہے , کیا ہم سیاحت کے ان مفاہیم پہ غور کرتے ہیں  اور کیا ہم لوہے کی عصا اور جوتے پہنتے ہیں ؟
ہمارے نزدیک سیاحت ایک لمبا سفر کرنے ، کسی پہاڑی یا جھیل کنارے سیلفی لینے کے بعد کھانے پینے کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنا ہے۔
مندرجہ بالا  اقوال پہ اگر غور کیا جائے تو ایک سیاح کو ہر حال میں سیکھنا چاہیے۔
ہمارے ملک میں موجودہ سیاحت کے لیے یہ قول ایک کسوٹی ہے  سیاحت کے لیے , بھی مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس پہ کتنا عمل کرتے ہیں۔سیاحت اور حادثات ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں مگر ہمارے ہاں یہ چیز آئے دن کے ساتھ کم ہونے کی بجائے زور پکڑتی جا رہی ہے۔آئیے انتظامیہ یا حکومت کو کوسنے سے پہلے اپنے  اعمال و افعال کا جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلی غلطی جو ہم میدانی علاقوں میں رہنے والے کرتے ہیں وہ یہ ہوتی ہے کہ ہم چند پیسے بچانے کی خاطر رات کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس بات کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آء ، کہ سیاحت میں تو آپ کا پورا سفر ہی سیاحت ہوتا ہے کوء ایک چیز یا جگہ مخصوص نہیں ہونی چاہیے۔انسان پورا راستہ کچھ نہ کچھ دیکھتا اور سیکھتا ہے۔ تو رات کے وقت کے سفر کا کیا جواز بنتا ہے۔
سیاحت شوق سمجھ کر کیجیے ، مجبوری نہیں۔
یعنی اگر آپ کے پاس وقت یا پیسہ کم ہے تو کہیں قریبی ٹور کر لیجیے یا دونوں چیزیں مزید جمع ہونے تک انتظار کیجیے۔ رات کو کہیں مناسب جگہ آرام کیجیے صبح تازہ دم ہو کر سفر شروع کریں۔
پہاڑی علاقوں کا سفر خطرناک ہوتا ہے مگر  رات کے وقت میں سفر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور پر خطر ہوتا ہے۔
اگر آپ دو دن کا ٹور ترتیب دیتے ہیں تو وقت اور جیب میں  چار دن کی گنجائش رکھیے ، کیونکہ ان علاقوں میں آفات ارضی و سماوی ہر دو طرف سے ہو سکتی ہیں آپ کے اپنے مسائل کے علاؤہ بھی۔
حال ہی میں دوران سیاحت ہلاک ہونے والوں میں ایک بات خاصی کامن پاء گء ہے کہ متوفی بیرون ملک سے آیا تھا گاڑی رینٹ پہ لی دوستوں کو ساتھ بٹھایا اور سیر پہ چل دیے۔
ایسا انسان جس کا پہاڑی ڈرائیونگ کا کوء تجربہ نہیں ، مت ڈرائیونگ کیجیے، گاڑی ڈرائیور کے ساتھ ہی رینٹ پہ لیجیے اور اگر ایک اچھی گاڑی آپ کی ملکیت یے تو ماہر ترین ڈرائیو ر کا انتظام بھی کیجیے اپنا ہنر مت آزمائیے۔
ایک انتہاء خطرناک عمل جو ہم اپنے میدانی علاقوں میں کرتے ہیں وہ ہے ٹریفک رولز کی خلاف ورزی اور یہی عمل ہم پہاڑی علاقوں میں بھی دہراتے ہیں 
اگر پہاڑی سڑک پہ ٹریفک رکی ہوء ہے تو اپنی گاڑی اسی لین میں پیچھے روک دیجیے بجائے اس کے کہ آگے جا کر دوسری طرف سے آنے والی ٹریفک کا راستہ بھی بند کر دیں۔کیونکہ اس طرح سے  گاڑی کو  موڑنا انتہاء مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن بھی ہوتا ہے۔
ایک اور جو ہمارا انتہاء غلط طرز عمل ہے وہ ہاء بیم لائیٹس استعمال کرنا ہے میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ  ہم یہ لائٹس کیوں استعمال کرتے ہیں۔لائیٹس  کا مقصد راستہ دیکھنا ہونا چاہیے نہ کہ اگلے بندے کی موت بننا۔
ہائی بیم لائٹ جب دوسری طرف سے آنے والے ڈرائیور کی آنکھوں پہ پڑتی ہے تو اس کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ اور وہ ایک لمحے کے 
لیے بالکل بے بس ہو جاتا ہے یہی عمل پہاڑی علاقوں میں ہو تو اس کا نتیجہ جان لینے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
کم بلند پہاڑی علاقوں کی حد تک تو مناسب ہے مگر زیادہ بلند اور آف روڈ راستوں پہ جدید یعنی کمپیوٹرائزڈ گاڑیوں کو لے جانا مناسب نہیں  ، خرابی کی صورت میں کوء حل ممکن نہیں ہوگا۔کیو نکہ وہاں ایسی ورکشاپس نہیں ہیں۔
اہم ترین بات کہ ان علاقوں میں سڑک تنگ اور موڑ  بہت تیز ہوتے ہیں۔اگر آپ اوور سپیڈنگ کر رہے ہیں تو لازم ہے کہ آپ کو اسی سپیڈ سے گاڑی کو موڑنا بھی پڑے جو آپ کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔
ہم سیاحوں کا ایک خوفناک طرز عمل چلتی گاڑی میں  بیٹھ کر ویڈیو بنانا اور شیئر کرنا بھی ہوتا ہے۔یہ عمل خاص طور پہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے انسان کا ہو تو انتہاء خطرناک ثابت  ہو سکتا ہے۔اس سے ڈرائیور کی توجہ بٹتی ہے اور حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔
سیر کا مقصد ہر  پل گھومنا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ جگہوں پہ پہنچا جائے ، جیسا کہ آج کل لوگ کر رہے ہیں ،   مناسب ہے کہ ایک وقت میں کسی ایک جگہ پہنچ کر وہیں اپنی گنجائش کے حساب سے رکا جائے ، خالق کائنات کی تخلیق پہ غور کیا جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے۔یہ عمل خود آپ کے اپنے لیے ہی نہیں بلکہ گاڑی کے لیے بھی بہترین ہوگا 
قارئین یاد رکھیے، عصر حاضر میں سیاحت ایک قدرے مہنگا اور وقت طلب کام ہے۔ آرام سے اور دل کھول کر  پلاننگ کیجیے ، اگر نہیں تو تھوڑا انتظار اور محنت کیجیے۔ جلدی میں خرابی ہے ، موت ہے۔