پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد کی کوٹلا وادی میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ پارٹی اپنے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا، بالخصوص میرپور کے ووٹرز نے پارٹی کو کامیابی دلائی، تاہم ان کے بقول انتخابی نتائج میں عوامی مینڈیٹ کا مکمل احترام نہیں کیا گیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ چوہدری یاسین کو شکست دینے کے لیے 10 پولنگ اسٹیشنز پر مبینہ دھاندلی کی گئی، جبکہ ایک پیپلز پارٹی کارکن جاں بحق ہوا اور فائرنگ کے ذریعے ووٹرز میں خوف و ہراس پھیلایا گیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتخابی نتائج پر خاموش نہیں رہے گی، نہ جھکے گی اور نہ ہی پیچھے ہٹے گی، بلکہ اپنی نشستوں کے حصول کے لیے آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ قومی مفاد میں ریاست اور پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی ہے، تاہم ان کے بقول ایسا تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بعض فیصلے قومی مفاد کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مفاد میں کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "آزاد کشمیر کو کسی صورت مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیا جائے گا۔"
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد مقدم ہے یا کسی سیاسی جماعت کا مفاد۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ آزاد کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کرائے گئے، جن کا مقصد پولنگ اسٹیشنز کو تحفظ فراہم کرنا تھا، تاہم ان کے بقول بعض حلقوں کے نتائج سوالات کو جنم دیتے ہیں۔واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے یہ بیانات آزاد جموں و کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب انتخابی نتائج اور دھاندلی کے الزامات پر متعلقہ انتخابی حکام اور دیگر فریقین کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔