مریدکے : سیلاب، کئی دیہات زیرِ آب

 سینکڑوں ایکڑفصلیں تباہ ،قلعہ ستار شاہ میں ریلوے ٹریک پل ٹوٹ گیا ، ٹرین آپریشن معطل 
 لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک )مون سون کی شدید بارشوں کے باعث تباہ کن سیلاب نیپنجاب کے متعدد دیہات کو ڈبو دیا ،شیخوپورہ کی تحصیل مریدکے اور دیگر متاثرہ علاقوں کے رہائشی گھروں سے نکل کرپانی میں ڈوبے کھیتوں میں کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ، مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر معصوم بچی جاں بحق ،5 افراد زخمی ہو گئے۔ شیخوپورہ کی تحصیل مریدکے ،فیروزوالہ سے گزرنے والے نالہ ڈیک نے تباہی مچادی ،سیلابی پانی نے ارگرد کے دیہی علاقوں کی آبادیوں اور زرعی رقبوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ مریدکے میں رضاکاروں کی چھوٹی موٹر بوٹس رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا رہی تھیں لیکن اس کے باوجود وہاں متعدد افراد پھنسے رہ گئے ہیں۔ تحصیل فیروز والا میں نالے کا بند ٹوٹنے سے کئی علاقے زیر آب آ گئے ۔ مسن کالر ، موضع کاٹھیانوالہ سمیت دیگر درجنوں دیہاتوں میں سینکڑوں ایکڑ مونجی کی فصل سیلابی پانی میں بہہ گئی ، لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت علاقہ کو بچانے کیلئے بند بنانے شروع کردیئے جبکہ ریسکیو 1122نے پھنسے متاثرہ افرادکومحفوظ مقامات منتقلی کیلئے 12ریلیف کیمپ قائم کردیئے ہیں ۔ گائوں ہڈیالہ ورکاں سمیت کئی بستیاں زیرآب آ چکی ہیں۔علاوہ ازیں سیلاب کی زد میں آکر شیخوپورہ لاہور سیکشن پرقلعہ ستار شاہ کے قریب ریلوے ٹریک پل ٹوٹ گیا جس کے باعث لاہور فیصل آباد سیکشن پر ٹرین آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ، متعدد ٹرینوں کے روٹس تبدیل اور بعض ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں۔ریلوے ٹرانسپورٹ آفسیر ریلویز لاہور ڈویڑن کا کہنا ہے کہ قراقرم ایکسپریس اور شالیمار ایکسپریس کو لاہور، فیصل آباد کی بجائے لاہور سے براستہ رائیونڈ، ساہیوال، خانیوال بھیجا جائے گا۔ این این آئی کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب نے مریدکے تحصیل میں 200 سے زائد دیہات میں تباہی مچا ئی ،سیلابی پانی نئے ائیر پورٹ ،کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی ،کالاشاہ کاکو ہسپتال اورگرلز ڈگری کالج میں داخل ہو گیا ، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر نارووال روڈ پر تین عارضی خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں ، تحصیل کامونکی میں بھی صورتحال ابتر ہے اورکئی علاقے سیلابی پانی میں گھرے ہیں۔متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122،مرکزی مسلم لیگ شعبہ خدمت خلق اورجماعت اسلامی کے کارکنان سیلاب زدگان کوکشتیوں کے ذریعے محفوظ مقام پرمنتقل کر رہے ہیں۔ ادھر بھلے ڈسنوال اور بانیوال کے قریب نالے میں شدید طغیانی سے حفاظتی بند ٹوٹ گیا اور پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا جس کے بعد لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ دریں اثناء￿  دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر درمیانے درجے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ گڈو اور سکھر بیراج پر پانی سطح بڑھنے کا خدشہ ہے، دریائے چناب میں ہیڈ خانکی، قادرآباد اور تریموں پر بھی بدستور نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ وزیرآباد نالہ پلکھو میں اونچے درجے ، نارروال نالہ بسنتر میں نچلے درجے کاسیلاب ہے۔ادھر دریائے چناب میں پانی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث ملتان کی تحصیل جلالپورپیروالا میں بیٹ مغل کا عوامی زمیندارہ بند ٹوٹنے سے 5 بستیاں زیرآب آگئیں اور مکینوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کر لی، سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں بھی زیرآب آگئیں۔دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھنے سے بند ٹوٹنے پر رحیم یارخان کے تین دیہاتوں میں بھی پانی داخل ہوگیا اور کھڑی فصلیں ڈوب گئیں۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں ڈیموں، دریائوں، نہروں اور جھیلوں میں تیراکی اور بغیراجازت کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی ہے ، گلیوں، سڑکوں ، کھلی جگہوں پر بارش کے جمع پانی میں نہانے پر بھی پابندی ہوگی۔ڈی جی عمر عباس میلہ نے کہا کہ دریائوں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں،فلڈ ریلیف کیمپس میں تمام تر بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔ دوسری طرف میلسی کے نواحی علاقے بھٹہ عمر دین میں بارش کے باعث خستہ حال مکان کی چھت منہدم ہو گئی اور ملبے تلے دب کر 6 سالہ بچی انعم بی بی جاں بحق جبکہ 5 افراد60سالہ غلام مصطفی،50سالہ عزیز مائی،11سالہ علی زین،6سالہ ریحان علی اور5سالہ ایان علی شدید زخمی ہو گئے۔زخمیوں کوٹی ایچ کیو ہسپتال میلسی منتقل کر دیا گیا ہے۔اسی طرح لاہور کے علاقے شالیمار روڈ، غوثیہ چوک کے قریب خستہ حال کمرے کی چھت گر نے کے نتیجے میں35 سالہ شاہد، 35 سالہ زینب، 20 سالہ مجاہد اور 3 سالہ رجب زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق 2 زخمیوں کو کوٹ خواجہ سعید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔سرکاری ڈیزاسٹر ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے اب تک پاکستان میں سیلاب سے مختلف واقعات میں 109 افراد جاں بحق ہو چکے ،ان اموات میں سے تقریباً ایک تہائی صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں۔