غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے تباہی ،دریا کا بہائو رک گیا‘ متعدد دیہات زیر آب

گلیشیئر پھٹنے سے پانی  جھیل کی صورت اختیار کر گیا‘  گائوں راشن کی آبادی محصور، درجنوں افراد پھنس گئے، 220 سے زائد ریسکیو
غذر میں چرواہے نے گلیشیئر پھٹنے کی  فون پر بروقت اطلاع دے کر سینکڑوں افراد کی جان بچالی‘اطلاع پر 100مکان خالی کرا لئے گئے
 گلگت (آئی این پی )گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے سیلاب نے ایک بار پھر تباہی مچادی، متعدد دیہات زیر آب آ گئے،  لینڈسلائیڈنگ سے گلگت شندور روڈ مکمل طور پر بند ہو گیا  ، تالی داس نالہ میں لینڈ سلائڈنگ دو اطراف سے ہوئی، لینڈسلائڈنگ سے راشن گائوں کی آبادی محصور ہوگئی،درجنوں افراد پھنس گئے جن میں سے 50 سے زائد ریسکیو کر  لئے  گئے۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے لوگوں کا شدید مالی نقصان ہوا تاہم جانیں محفوظ ہیں۔فیض اللہ نے بتایا کہ غذر گوپس کے علاقہ تلی داس کے مقام پر گلیشئیر پھٹ گیا جس سے دریا کا بہا رک گیا، مزید نقصانات کا خدشہ ہے، وزیراعلی خود مانیٹر کر رہے ہیں تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلیشیئر پھٹنے سے پانی ایک جھیل کی صورت اختیار کر گیا ہے، متصل دیہات مزید زیر آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جبکہ سیلاب سے پھنسے 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے‘غذر میں چرواہے نے گلیشیئر پھٹنے کی بروقت اطلاع دیکر سیکڑوں افراد کی جان بچالی۔غذر میں گلیشیئرپھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد آنیوالے سیلاب نے دریائے غذر کے ایک حصے کا بہا روک دیا۔سیلاب کی اطلاع پر راتوں رات گائوں تالی داس خالی کیاگیا اور تقریبا 200 لوگ بلند پہاڑی مقام پر پہنچے اور یہ اطلاع ایک مقامی چرواہے انصار نے گاں والوں کو ٹیلیفون پر دی۔انصار کی اطلاع کے بعد 100مکانات خالی کرائے گئے اور بعد میں سیلاب آیا توان خالی مکانات کو نقصان بھی پہنچا لیکن قیمتی جانیں بچ گئیں۔ چرواہا سیلاب کے وقت اپنے اہلخانہ کے 6 افراد کے ساتھ اسی نالے میں موجود تھا۔پاک فوج اور دیگر اداروں نے ریسکیو آپریشن کرکے گاں تالی داس کے 200 لوگوں کو گاں یانگل اور سمال منتقل کرادیا۔