بھارت نے پانی چھوڑ دیا ، 72 دیہات زیرِ آب

قصور کے 30 دیہات کا رابطہ منقطع،بہاولنگر میں حفاظتی بند ٹوٹ گئے
 راوی ، چناب میں بھی سیلاب کا خدشہ آج سے شدید بارشوں کی پیشگوئی
لاہور، قصور، بہاولنگر، اسلام آباد، کراچی (خصوصی رپورٹ) بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے،72 دیہات زیرِ آب آگئے۔ قصور اور بہاولنگر کے درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے جبکہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آئندہ 48 گھنٹے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آج سے 27 اگست تک مون سون کا آٹھواں اسپیل جاری رہے گا۔ دریائے جہلم، چناب، راوی، ستلج اور ندی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ لاہور، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد میں شہری سیلاب (فلیش فلڈنگ) کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔سیلابی ریلے سے قصور کے 30 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، زرعی اراضی ڈوب گئی اور حفاظتی بند ٹوٹنے لگے۔ ریسکیو حکام کے مطابق 444 افراد اور 470 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ 4 ہزار سے زائد افراد کو کشتی سروس فراہم کی گئی۔ بہاولنگر میں بھی کئی بند ٹوٹ گئے، متعدد مکانات اور فصلیں متاثر ہوئیں۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ تربیلا اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا۔ تربیلا ڈیم 1550 فٹ کی سطح تک بھر گیا ہے اور سپیل ویز کھول دیے گئے ہیں۔ دریائے ستلج میں پانی کی سطح 21.30 فٹ تک پہنچ گئی اور بہا ئو 1 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ پاک فوج کے جوان بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ادھرخیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 493 کلو میٹر سڑکیں ، 32 پل بہہ گئے ہیں جبکہ وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے مکمل بحال ہو چکی ہے۔گلگت میں تودے سے بننے والی جھیل ٹوٹنے پر تباہ کن سیلاب کا خدشہ ہے ، متاثرین کے لیے عارضی کیمپس اور ریلیف سینٹر قائم کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال اور جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں اگلے تین روز تک موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی شدید بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی اور شہری سیلاب کا امکان ہے۔