آئی جی سے 52 ویں کامن کے زیر تربیت اے ایس پیز کی ملاقات

 سی سی ڈی کے اغراض، کارکردگی اور محفوظ پنجاب وڑن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی
 لاہور (کرائم رپورٹر) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے 52 ویں کامن سے تعلق رکھنے والے زیر تربیت اے ایس پیز نے سنٹرل پولیس آفس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ اور ڈی آئی جی سی سی ڈی عمر فاروق سلامت سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ امن و امان اور سروس ڈیلیوری اولین ترجیحات ہیں، جبکہ دہشت گردی اور آرگنائزڈ کرائم کا خاتمہ اہم ترین چیلنجز میں شامل ہے۔ سی سی ڈی، ضلعی پولیس اور دیگر آپریشنل یونٹس باہمی لائحہ عمل اور مشترکہ کوششوں سے اہداف حاصل کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد لاہور سمیت صوبہ بھر میں کرائم کی شرح میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے زیر تربیت اے ایس پیز کو سی سی ڈی کے اغراض و مقاصد، ہیومن ریسورس، ورکنگ اور کامیابیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب پولیس کے انتہائی پروفیشنل، تجربہ کار اور کرائم فائٹر افسران پر مشتمل ایک سپیشل یونٹ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے محفوظ پنجاب وڑن کے تحت سنگین جرائم کا سدباب یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سی سی ڈی کو سنٹرلائزڈ کریمنلز ڈیٹا بیس، سرویلنس اینڈ مانیٹرنگ سسٹم، جدید ٹیکنالوجی اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا ہے۔ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی نے مزید کہا کہ ڈکیتی، راہزنی اور منشیات فروشی سمیت آرگنائزڈ جرائم میں ملوث ریکارڈ یافتہ کریمنلز کی سرکوبی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ڈکیتی، رابری کے دوران قتل و زیادتی، بھتہ خوری، وہیکل چوری اور بین الصوبائی گینگز کا خاتمہ بھی سی سی ڈی کے اہم ٹاسک ہیں۔