امریکی تھنک ٹینک کا بلوچستان سٹڈی پراجیکٹ اسرائیلی مفاد کیلئے ہوسکتا ہے: الجزیرہ

پراجیکٹ کے توسط سے خطے میں اپنی موجودگی کے ذریعے اسرائیلی مفادات کے پیش نظر پاکستان کیساتھ ایران پر بھی نظر رکھے گا
اسرائیل پراجیکٹ کے ذریعے بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم علیٰحدگی پسندوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرسکتا ہے
منصوبے کے ذریعے اسرائیل بھارتی پراکسیز سے اپنے مقاصد کے لیے کام لے سکتا ہے،عبداللہ موسوی کامضمون میں خدشات کا اظہار
دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک)قطری نشریاتی ادارے نیانکشاف کیا ہے کہ امریکی تھنک ٹینک کا بلوچستان سٹڈی پراجیکٹ اسرائیلی مفاد کیلئے استعمال ہوسکتا ہے، اس منصوبے کے ذریعے اسرائیل بھارتی پراکسیز سے اپنے مقاصد کے لیے کام لے سکتا ہے۔معروف قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ میں مصنف و محقق عبداللہ موسوی کے شائع مضمون میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے کہ اسرائیل اس پراجیکٹ کے ذریعے بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم علیٰحدگی پسند دہشت گردوں کو اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ  نے 12 جون کو بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ (بی ایس پی) کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔یہ تھنک ٹینک 1998 میں قائم ہوا تھا اور ہمیشہ اسرائیل کے حامی ایجنڈے کو فروغ دیتا رہا ہے، اس کے بانی، کرنل یگال کارمون، اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کور میں 20 سال سے زیادہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ایم ای ایم آر آئی کم از کم 2012 سے اسرائیلی ریاست کے لیے غیر سرکاری طور پر انٹیلی جنس اکٹھا کرنے میں بھی ملوث رہا ہے۔مضمون میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایم ای ایم آر آئی بلوچستان سٹڈی پراجیکٹ کے توسط سے اس خطے میں اپنی موجودگی کے ذریعے اسرائیلی مفادات کے پیش نظر پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران پر بھی نظر رکھے گا، کیونکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ پاکستان ممکنہ طور پر تہران کو ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار فراہم کرسکتا ہے۔مصنف کے مطابق اس تناظر میں ایم ای ایم آر آئی کا بلوچستان سٹڈیز پروجیکٹ شروع کرنا اسرائیل کے جغرافیائی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس میں پاکستان کی سلامتی کے خلاف فتنہ الہندوستان جیسی بھارتی پراکسیز کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔