زرعی بد حالی کے بعد صنعتی ترقی ضروری ہے حکومت فیصلہ کرے کہ مسابقتی فنانسنگ لاگت سے صنعتوں کو چلانا ہے یا نہیں
اسلام آباد(آئی این پی )معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے معاشی بحالی کیلئے شرح سود میں کمی کی سفارش کر تے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب سے زرعی شعبہ شدید متاثر ہو چکا ہے ۔ تھنک ٹینک کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرعی بد حالی کے بعد صنعتی ترقی ضروری ہے حکومت فیصلہ کرے کہ مسابقتی فنانسنگ لاگت سے صنعتوں کو چلانا ہے یا نہیں ؟ ۔ حالیہ سیلاب کے بعد زرعی اور صنعتی شعبے کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کیلئے شرح سود کو 11 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کیا جائے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شرح سود کو کم کرنے سے حکومت کو تین ہزار ارب روپے کی بچت ہوگی ،حکومت یہ تین ہزار ارب روپے سیلاب متاثرہ علاقوں میں تعمیر و بحالی پر خرچ کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شرح سود کم کرنے سے برآمدات بڑھیں گی اور روزگار ملیں گے، صنعتی شعبہ سیلاب متاثرہ زراعت کے نقصانات کا ازالہ کر سکتا ہے مہنگی شرح سود صنعتی ترقی کا راستہ روک رہی ہے۔ ای پی بی ڈی نے سفارش کی ہے کہ دوسرے مرحلے میں شرح سود کو 9 فیصد سے کم کرکے 6 فیصد کیا جائے پاکستان سیلاب کے بعد فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے حالیہ سیلاب سے چاول کی 60 فیصد ، کاٹن 35 فیصد اور گنے کی 30 فصل تباہ ہو چکی ہے سیلاب سے 40 فیصد لیبر فورس متاثر ہوئی ہے۔ سیلاب سے جی ڈی پی کی شرح 3.4 فیصد سے کم ہوکر 3.2 فیصد ہونے کا امکان ہے اور تجارتی خسارے میں ایک ارب 90 کروڑ ڈالرز اضافے کا امکان ہے۔ ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب کے بعد شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنا نا قابل برداشت ہوگا ،شرح سود برقرار رکھنے سے معاشی بد حالی میں اضافہ ہوگا ،شرح سود کو برقرار رکھنے سے صنعتی ترقی رک جائے گی۔