فیلڈ مارشل عاصم منیر: عسکری تاریخ کا نیا باب

اصغر علی جوئیہ
پاکستان کی عسکری اور قومی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو صرف کسی ایک واقعے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک پورے عہد کی سمت متعین کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک فیصلہ حال ہی میں وفاقی کابینہ نے کیا، جب اس نے آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی اور دشمن کے خلاف فیصلہ کن حکمتِ عملی کے اعتراف میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی۔ یہ نہ صرف ایک عسکری پیش رفت ہے بلکہ قومی وقار، ریاستی حکمتِ عملی، اور پاکستانی قوم کے اجتماعی اعتماد کا اظہار بھی ہے۔آپریشن بنیان مرصوص محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی مربوط اور غیر معمولی عسکری منصوبہ بندی کا عملی مظہر تھی جس نے دشمن کو اپنی حدود میں محدود ہونے پر مجبور کر دیا۔ یہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا آپریشن تھا جب دشمن عناصر نہ صرف سرحدوں پر بلکہ سفارتی اور پروپیگنڈہ محاذ پر بھی پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے تھے۔ لیکن افواجِ پاکستان نے جس پیشہ ورانہ مہارت، خفیہ انٹیلی جنس اور زمینی و فضائی ہم آہنگی کے ساتھ یہ کارروائی کی، اْس نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف دفاعی طاقت رکھتا ہے بلکہ جارحانہ خطرات کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔فیلڈ مارشل کا عہدہ دنیا بھر میں عسکری خدمات کے اعلیٰ ترین اعزازات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ عہدہ صرف جنگی میدان میں فتح حاصل کرنے پر ہی نہیں دیا جاتا بلکہ اس میں قیادت، حکمتِ عملی، نظم و ضبط، اور قومی سلامتی کے استحکام میں دی گئی غیر معمولی خدمات کا بھی اعتراف شامل ہوتا ہے۔ پاکستان میں اب تک صرف ایک شخصیت کو یہ عہدہ دیا گیا تھا، اور وہ تھے صدر جنرل محمد ایوب خان، جنہیں 1959ء￿  میں یہ اعزاز دیا گیا۔اب جب کہ جنرل عاصم منیر کو یہ تاریخی اعزاز دیا گیا ہے، تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی عسکری خدمات کا اعتراف ہے بلکہ اس پوری قیادت، ٹیم اور قومی سسٹم کا بھی اعتراف ہے جو ان کی رہنمائی میں کام کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل کا عہدہ پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک نیا موڑ ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ افواجِ پاکستان اب صرف ایک دفاعی قوت نہیں بلکہ ایک فعال، حکمتِ عملی سے بھرپور اور فیصلہ کن عسکری ادارہ بن چکی ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت اپنے اندر سادگی، بصیرت، اور فیصلہ کن قیادت کا حسین امتزاج رکھتی ہے۔ ان کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے اندرونی و بیرونی خطرات کے خلاف جرا?ت مندانہ اقدامات کیے۔ انہوں نے صرف عسکری میدان میں ہی نہیں بلکہ قومی بیانیے کے تحفظ، سول ملٹری ہم آہنگی، اور عوامی اعتماد کی بحالی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔عاصم منیر نے اپنے بیان میں اس اعزاز کو قوم، افواجِ پاکستان، اور خاص طور پر ان شہداء￿  اور غازیوں کے نام منسوب کیا ہے جنہوں نے وطنِ عزیز کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کا یہ کہنا کہ بنیان مرصوص صرف ایک آپریشن نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی خودمختاری، قومی غیرت اور عسکری برتری کا مظہر ہے — اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی سوچ صرف عسکری حدود میں محدود نہیں بلکہ وہ ایک ہمہ جہت قومی وڑن رکھتے ہیں۔فیلڈ مارشل کا عہدہ اگرچہ تکنیکی طور پر ایک عسکری رینک ہے لیکن اس کا اثر صرف فوج تک محدود نہیں ہوتا۔ یہ ایک قومی علامت بن جاتا ہے — ایک ایسا نشان جو قوم کے اعتماد، اداروں کے اتحاد، اور دشمن کے خلاف واضح پیغام کا حامل ہوتا ہے۔ یہ اعزاز اس وقت دیا جاتا ہے جب صرف توپ و تفنگ نہیں بلکہ قومی وقار داؤ پر لگا ہوتا ہے۔ اس سیاق میں دیکھا جائے تو جنرل عاصم منیر کی ترقی دراصل پاکستان کی داخلی یکجہتی، سفارتی وقار، اور اسٹریٹیجک بصیرت کا مجموعی نتیجہ ہے۔آپریشن بنیان مرصوص اور اس کے بعد کی پیش رفت نے دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ پاکستان اب صرف ردِعمل دینے والا ملک نہیں رہا بلکہ وہ اپنی شرائط پر فیصلے کرنے اور دشمن کو قبل از وقت دفاعی پوزیشن پر مجبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اداروں نے جو نظم و ضبط، پروفیشنلزم، اور ٹیکنیکل مہارت دکھائی، وہ آئندہ کے چیلنجز — جیسے ہائبرڈ وار، سائبر حملے، اور پراکسی جنگیں — سے نمٹنے کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔یہ حقیقت قابلِ تعریف ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی اور فیلڈ مارشل کے عہدے کی منظوری صرف فوجی فیصلہ نہیں تھی بلکہ اسے سیاسی قیادت اور وفاقی کابینہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستِ پاکستان کی مختلف اکائیاں ایک نکتے پر متفق ہیں: قومی سلامتی، خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترقی دراصل ایک پیغام ہے — دشمن کے لیے، اتحادیوں کے لیے، اور سب سے بڑھ کر پاکستانی قوم کے لیے۔ یہ پیغام ہے کہ پاکستان ایک پرعزم، منظم، اور طاقتور ملک ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے دشمنوں کے وار سہنے کے بجائے ان کے ارادے خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ فیصلہ اْن تمام شہداء￿  کے لہو کو سلام ہے جنہوں نے اس زمین کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ ان غازیوں کے حوصلے کا اعتراف ہے جنہوں نے اپنی جانیں بچا کر وطن کا دفاع جاری رکھا۔ اور یہ اْن اہلِ قلم، اہلِ دانش، اور ہر اس فرد کے لیے ایک اطمینان ہے جو پاکستان کے دفاع، نظریے اور خودمختاری کے لیے فکر مند ہے۔فیلڈ مارشل کا اعزاز صرف ایک فرد کے کندھوں پر نہیں ہوتا، یہ پوری قوم کی طرف سے ایک عزم کا اعلان ہوتا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں، ہمیں شکست نہیں دی جا سکتی! فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترقی پاکستان کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ہے جو آئندہ نسلوں کے لیے ایک مثال اور دشمن کے لیے ایک انتباہ بن کر تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے۔