عنبرین خان‘لاہور
فیصل آباد کو پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کا دل کہا جاتا ہے۔ یہاں کی فیکٹریاں، پاور لومز اور ایکسپورٹ یونٹس نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دیتے رہے ہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ مگر گزشتہ چند برسوں سے یہ صنعت شدید بحران کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں فیکٹریوں کی بندش، پیداوار میں کمی اور بے روزگاری میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
توانائی کی بلند لاگت اور عدم تسلسل
بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور غیر یقینی سپلائی نے پیداواری لاگت کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔ لوڈشیڈنگ اور گیس کی بندش کے باعث فیکٹریاں پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر پاتیں۔
خام مال کی مہنگائی
کپاس کی پیداوار میں کمی اور درآمدی خام مال پر انحصار نے لاگت بڑھا دی ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے درآمد شدہ دھاگا اور کیمیکلز مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔
مالیاتی دباؤ اور مہنگی فنانسنگ
بینکوں سے قرضے مہنگے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے صنعتکاروں کے لیے سرمایہ کاری اور کاروبار کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
حکومتی پالیسیوں کا عدم تسلسل
ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، اچانک پالیسی تبدیلیاں اور طویل مدتی صنعتی حکمتِ عملی کا فقدان صنعت کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھتا ہے۔
بین الاقوامی مسابقت
بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت جیسے ممالک کم لاگت اور بہتر سہولیات کے باعث عالمی منڈی میں پاکستان سے آگے نکلتے جا رہے ہیں، جس سے ہماری برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
ٹیکسٹائل صنعت کے سکڑنے سے فیصل آباد میں مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ہزاروں مزدور بیروزگار ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں غربت، سماجی مسائل اور معاشی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں رعایت اور مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خصوصی توانائی پیکج متعارف کرایا جائے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور فیکٹریاں بلا تعطل کام کر سکیں۔
جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری بیج اور کسانوں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے مقامی کپاس کی پیداوار بڑھائی جائے۔
صنعتکاروں کے لیے کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی اور ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
ایک طویل مدتی ٹیکسٹائل پالیسی مرتب کی جائے جس پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد ہو، تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔
ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے حکومتی و سفارتی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔
فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت کا بحران محض ایک شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو بے روزگاری اور معاشی مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، صنعتکار اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مل کر عملی اور دیرپا حل کی جانب بڑھیں تاکہ فیصل آباد ایک بار پھر صنعتی ترقی اور روزگار کا مرکز بن سکے۔