سندھ میں پانی کے بحران اور ٹینکر مافیا کا کردار

شہادت/چوہدری محمد الطاف شاہد

 شہرقائدؒ کراچی آج بھی آبادی کے اعتبار سے مادروطن پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ اقتصادی طور پر انتہائی اہم ترین شہر ہے لیکن اس شہر کو شایدکوئی آسیب چمٹ گیاتھاجواس کی جان چھوڑنے کیلئے تیار نہیں کیو نکہ پچھلی کئی دہائیوں سے ہمارا یہ روشنیوں کاشہر ناامیدی کے اندھیروں اوربدامنی کے انگاروںسمیت مختلف پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے۔ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تقریباً تین دہائیوں سے جاری بلاشرکت غیرے حکمرانی کے باوجود شہرقائدؒ کراچی کے عوام کو پینے کا صاف پانی، بجلی، تعلیم ، روزگاراورانصاف سمیت کی بنیادی شہری سہولیات اورشہریوں کوان کے بنیادی حقوق تک میسر نہیں۔ ان ابتر حالات میں بدترین سٹریٹ کرائم اور کراچی سمیت سندھ پولیس کی جانب سے امن و امان کی مخدوش صورتحال نے شہر کو مزیداورشدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔کراچی میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کی وجہ سے عوام کو روزمرہ کی زندگی میں بے حد مشکلات کا سامنا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکامی کے بعد ٹینکر مافیا نے اس بحران کا فائدہ اٹھا تے ہوئے غیر قانونی طور پر پانی بیچنے کا گھنائونا کاروبار شروع کر دیا ہے۔بیحد افسوس کی بات ہے کہ یہ منظم اورمنہ زور مافیا سندھ کی حکمران جماعت کے بااثر افراد کی حمایت سے کھلم کھلا کام کر رہا ہے اور صوبائی حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ٹینکر مافیا کی غیر قانونی سرگرمیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ یہ مافیا سرکاری ذرائع سے پانی چوری کر کے منہ مانگے داموں فروخت کر رہا ہے۔ پانی جیسی بنیادی سہولت کا سودا کرنا سراسر جرم ہے لیکن پیپلز پارٹی کے زیر اثر سندھ حکومت اسے روکنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔
  پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ میں بجلی، تعلیم، روزگار اورامن وامان کے شعبے میں بہتری کے متعدد وعدے اوردعوے کئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام کو ان میں سے کسی بھی بنیادی سہولت کی دستیابی میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ سندھ کے تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں، بیروزگاری کی شرح بڑھتی جا رہی ہے اور بجلی کی عدم فراہمی نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔کراچی میں بڑھتی ہوئی سنگین جرائم کی وارداتوں نے عوام کو غیرمحفوظ اور شدیدخوفزدہ کر دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ان جرائم پر قابو پانے میں ناکامی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امن و امان کی صورتحال پر بھی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی نے پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے جبکہ شہری روزانہ ڈاکے، اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم کا شکار بن رہے ہیں۔سندھ کے عوام کو پیپلز پارٹی کی حکومت سے جس قسم کی توقعات تھیں وہ سب پوری نہیں ہو سکیں۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی حکومت کا بنیادی فرض ہے  لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس میں ناکامی کے بعد شہریوں کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت ٹینکر مافیا کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ سندھ کے عوام اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔