عوامی تحفظ اور شکایات کمیشنز کا قیام نہ صرف قانونی ذمہ داری بل کہ جمہوری ضرورت بھی ہے،ملک احمدخان
لاہور ( سپیشل رپورٹر)سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے لاء ریفارمز اور تفویض کردہ قانون سازی کا اہم اجلاس پنجاب اسمبلی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں پولیس احتساب، نگرانی کے نظام، اور قانون سازی کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر غورکیا گیا۔ کمیٹی شرکاء نے متفقہ طور پر صوبائی اور ضلعی سطح پر عوامی تحفظ اور شکایات کمیشنز کے عدم قیام پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیشنز پولیس آرڈر 2002 کے تحت ایک قانونی تقاضا ہیں، لیکن 22 سال گزرنے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ یہ کمیشن پولیس کی بدعنوانیوں کو روکنے، شفافیت یقینی بنانے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ کمیٹی نے حکومت کو دو ہفتوں میں صوبائی عوامی تحفظ اور شکایات کمیشن قائم کرنے کی ہدایات دیں۔ جس پر حکومت نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ضلعی عوامی تحفظ اور شکایات کمیشنز کی تشکیل میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پولیس آرڈر 2002 میں ترمیم متعارف کرائی جائے گی۔اس موقع پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جمہوریت میں منتخب ارکان، وزراء عوام کو جواب دہ ہیں، محکمہ جات کے سیکرٹریز نہیں،وزراء کو اپنے محکموں پر مؤثر نگرانی کے لیے مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ اسمبلی منتخب نمائندوں کو اصلاحات کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی تحفظ اور شکایات کمیشنز کا قیام نہ صرف قانونی ذمہ داری ہے بل کہ جمہوری ضرورت بھی ہے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔ اجلاس میں ایم پی اے امجد علی جاوید کی سربراہی میں ایک سب کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو صوبائی کمیشن کے قیام کی نگرانی کرے گی اور ضلعی کمیشنز کو فعال کرنے میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرے گی۔