سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بنگلادیش اور انڈونیشیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ انڈونیشیا نے گرین سکوک جاری کر کے قابل تجدید توانائی کی فنانسنگ کی۔ انڈونیشیا نے ٹرانسپورٹیشن اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے بھی فنانسنگ کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی فنانس ماحولیاتی چیلنجز سے بچاؤ کی راہ دکھاتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی انسانیت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔