پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے لاہور ہائی کورٹ بار میں 26 ویں ترمیم کے عدلیہ پر اثرات کے موضوع پر منعقدہ وکلا نمائندہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں چند لوگ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہیں، جس پر چیف جسٹس کی مایوسی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس منصور علی شاہ ہیں، اور انہیں امید تھی کہ وہ عدلیہ کی خودمختاری کے لیے بہتر کام کریں گے، مگر اس وقت کی صورتحال مایوس کن ہے۔ حامد خان نے مزید کہا کہ 26 ویں ترمیم کے خلاف وکلا نے درخواستیں دائر کی ہیں اور موجودہ 16 ججز پر مشتمل فل کورٹ سماعت کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ میں سیاسی بھرتیاں نہ ہونے دی جائیں اور سپریم کورٹ کو اس میں ملوث افراد کے ساتھ سیاسی اثرات سے بچایا جائے۔حامد خان نے کہا کہ 26 ویں ترمیم آئینی نہیں ہے اور حکمران صرف کٹھ پتلیاں ہیں۔
ان کے مطابق، وزیراعظم اور وزیر قانون بھی اس ترمیم سے لاعلم تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم کے دوران ایک خاتون سینیٹر کے بیٹے کو اغواء کر کے ووٹ ڈلوانے کی کوشش کی گئی۔صدر انصاف لائرز، اشتیاق اے خان نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومتی ٹولے نے بارکونسلز کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور عدلیہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک 26 ویں ترمیم ختم نہیں ہوتی، وکلا واپس نہیں آئیں گے۔