سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا ایک اہم خط 17 اکتوبر 2025ء کو سامنے آ گیا ہے، جو ججز کوڈ آف کنڈکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق ہے۔
یہ خط اس وقت لکھا گیا جب سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ججز کے ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) میں تبدیلیوں پر غور ہو رہا تھا۔
خط کے مطابق:
دونوں جسٹس صاحبان نے جوڈیشل کونسل کے اجلاس سے ایک روز قبل اپنے کمنٹس جمع کرائے تھے۔انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی، اور انٹرنیٹ مسائل کے باوجود اپنا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کی۔خط میں کہا گیا کہ اجلاس کے بعد دستخط شدہ کاپی 20 اکتوبر کو جمع کروانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔
اہم نکات اور اعتراضات
غیر آئینی پیشرفت کا الزام:
دونوں ججز نے اعتراض کیا کہ 13 اکتوبر کو ہونے والے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی (NJPMC) اجلاس میں ججز کوڈ آف کنڈکٹ کا معاملہ زیر بحث لایا گیا، جو کہ غیر آئینی اقدام ہے، کیونکہ یہ معاملہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
جوڈیشل کونسل کے اجلاس سے متعلق سفارش:
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کونسل کے اجلاس سے قبل ان کے 13 اکتوبر کے خط کو مدنظر رکھا جائے، جس میں کونسل اجلاس مؤخر کرنے یا اس کی تشکیلِ نو کی تجویز دی گئی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے متعلق کیس:
خط میں نشاندہی کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف کیس سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔چونکہ یہ معاملہ جوڈیشل کونسل کے رکن سے متعلق ہے، اس لیے فیصلہ اس کی آئینی حیثیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
آئینی حیثیت پر سوال:
دونوں ججز نے خبردار کیا کہ جب تک کونسل کی آئینی حیثیت کا تعین نہیں کیا جاتا، اس کے فیصلوں کی قانونی حیثیت مشکوک رہے گی۔