حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکراتی کمیٹی تحلیل کرنے کا عندیہ دے دیا

حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکراتی کمیٹی تحلیل کرنے کا عندیہ دے دیا

حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے تشکیل کردہ اپنی کمیٹی تحلیل کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

 حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں شامل سات جماعتوں کے قائدین کو دباؤ میں نہیں رکھا جا سکتا اور اگر پی ٹی آئی نے مذاکرات میں شرکت سے انکار کیا تو کمیٹی کو تحلیل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی ملاقات سے گریز کرتی ہے تو یہ ان کا حتمی فیصلہ ہوگا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وہ مذاکراتی کمیٹی کا حصہ نہیں ہیں لیکن اگر پی ٹی آئی انکار کرتی ہے تو مذاکرات کا عمل بے نتیجہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے راستے ہمیشہ کھلے رہنے چاہیئیں کیونکہ مذاکرات کے دروازے بند کرنا جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے مذاکرات کے لیے کی گئی دعوت کو مسترد کر دیا تھا۔ پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب نے اسپیکر کو بتایا کہ حکومت نے ان کے مطالبات پر تاخیری حربے استعمال کیے ہیں اور جب تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جاتا، مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا کہ وہ آج کے مذاکراتی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی اور اپوزیشن ممبران کو بھی اجلاس میں نہ جانے کی ہدایت کی۔پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ جب تک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نہیں کی جاتی، مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔