سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے کسٹم ریگولیٹر ڈیوٹی کیس سننے سے معذرت کرلی اور اس کی تحریری وجوہات بھی جاری کردی۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جوڈیشل احکامات اور ایڈمنسٹریٹو احکامات میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے اور جوڈیشل احکامات کی تقدیس کو محفوظ رکھنا چاہئے، تاکہ ان کی خلاف ورزی نہ ہو۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کے فل کورٹ تشکیل دینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے از خود نوٹس کا اختیار استعمال کیا جو غیر آئینی تھا، اس لیے وفاقی حکومت اس فیصلے کو چیلنج کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی توہین عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔