اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک نے مخصوص نشستوں کے کیس میں اپنے اختلافی نوٹ کو عدالت کی ویب سائٹ پر شائع نہ کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو باضابطہ طور پر خط لکھ دیا ہے۔
جسٹس عائشہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا اختلافی نوٹ آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کو باقاعدہ طور پر ارسال کیا گیا تھا، تاہم اسے تاحال عدالتی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا گیا۔جسٹس عائشہ نے اپنے خط میں بتایا کہ یہ فیصلہ پیر کی دوپہر 3:11 بجے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کو بھیجا گیا تھا اور آج صبح ایک بار پھر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کی گئی، مگر تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔جسٹس عائشہ نے لکھا کہ آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کا عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا ناقابل قبول ہے اور اس سے عدالتی کارروائی کی شفافیت اور ساکھ پر سوال اٹھ سکتا ہے۔
انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ ان کے اختلافی نوٹ کو فوری طور پر عدالت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کروایا جائے تاکہ مکمل عدالتی ریکارڈ سامنے آسکے۔یاد رہے کہ مخصوص نشستوں پر سیاسی جماعتوں کو حق سے محروم کیے جانے کے خلاف نظرثانی درخواستیں مسترد کرنے کا فیصلہ دیا گیا تھا، جس میں جسٹس عائشہ ملک نے اختلافی نوٹ لکھا تھا جسے اب تک عوام کے لیے جاری نہیں کیا گیا۔