سمیع اللہ ملک
قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ٹرمپ کی اقتصادی بیان بازی شایدڈنمارک کیلئے سب سے بڑاخطرہ ہے کیونکہ امریکا ڈنمارک اوریہاں تک کہ یورپی یونین کی اشیاپرمحصولات میں نمایاں اضافہ کررہاہے جس کی وجہ سے ڈنمارک کوگرین لینڈکے معاملے میں کچھ رعایتیں دینے پرمجبورکیاجارہاہے اورڈنمارک کی حکومت کودیگرحالت کی وجہ سے اس جزیرے پر توجہ دینے کیلئے مجبورکیاجارہاہے توایسے میں یہ کہاجاسکتاہے ڈنمارک کی اس جزیرے پرتوجہ میں دیگرعوامل بھی کارفرماہیں۔
ٹرمپ تمام امریکی درآمدات پر10فیصدبراہ راست ٹیرف لگانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔دیگرچیزوں کے علاوہ اس سے یورپی ممالک کی ترقی میں بہت سی مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔لہذاڈنمارک اوردیگریورپی ممالک کی کچھ کمپنیاں اب امریکامیں پیداواری مراکزقائم کرنے پرغورکررہی ہیں۔بین الاقوامی قانونی فرم’’پلزبری‘‘کے بینجمن کوٹ نے ویب سائٹ’’مارکیٹ واچ‘‘کوبتایاکہ ٹیرف میں اضافے کے ممکنہ اختیارات میں1977کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورزایکٹ(آئی ای ای پی اے)کواستعمال کرناشامل ہے ۔یہ ممکنہ طورپردواسازی کی صنعت کومتاثرکرسکتاہے جوڈنمارک کی بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے۔امریکازیادہ تر مصنوعات جیسے ہیئرنگ ایڈزاورانسولین ڈنمارک سے خریدتا ہے۔اس کے علاوہ ذیابیطس کی دوا’’اوزیمپک‘‘بھی ڈنمارک کی کمپنی ’’نوونورڈسک‘‘تیارکرتی ہے۔ان اقدامات کے نتیجے میں دواں کی قیمتوں میں اضافہ امریکی عوام کوپسندنہیں آئے گا۔یہ بعیداز قیاس معلوم ہوتاہے کہ امریکاایسا کرے گالیکن ٹرمپ کافوجی کارروائی سے انکارنہ کرنے کی وجہ سے یہ بھی ایک آپشن ہوسکتا ہے۔
بنیادی طورپرامریکاکیلئے گرین لینڈپرکنٹرول حاصل کرنامشکل نہیں ہوگاکیونکہ گرین لینڈمیں اس کے پہلے ہی فوجی اڈے اوربڑی تعدادمیں فوجی موجودہیں۔گرین لینڈپرامریکا کا پہلے سے ہی ڈی فیکٹوکنٹرول ہے۔ٹرمپ کے بیانات ان معلومات پرمبنی معلوم ہوتے ہیں جن کامطلب وہ سمجھ نہیں سکے اوریقیناگرین لینڈمیں امریکی فوجی کاروائی ایک بین الاقوامی مسئلے کوجنم دے گی۔اگر ٹرمپ گرین لینڈ پرحملہ کرنے کافیصلہ کرتے ہیں تونیٹوکے آرٹیکل5کے مطابق وہ نیٹوپرحملہ کریں گے لیکن اگرکوئی نیٹوملک نیٹوکے کسی رکن ملک پر حملہ کرتاہے توــ’’نیٹوـ‘‘کاوجودباقی نہیں رہے گا۔
ٹرمپ کی تقریرسے ایسالگتاہے جیسے چینی صدرشی جن پنگ تائیوان یاروسی صدرولادیمیرپوٹن یوکرین کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ’’اس سرزمین کو حاصل کرناہمارے لیے درست ہے‘‘۔اگرواقعی ان کی باتوں کوسنجیدگی سے لیا جائے تویہ مغربی ممالک کے پورے اتحادکیلئے ایک بری علامت ہے۔
ٹرمپ کے بیان پرصرف نیٹوممالک میں ہلچل نہیں بلکہ امریکاکے پڑوس کینیڈاکے وزیراعظم جسٹن ٹروڈونے نہ صرف اپنے منصب سے استعفی دے دیاہے بلکہ سیاست چھوڑنے کا بھی اعلان کردیاہے۔ٹرمپ نے کینیڈاکی سرحدکوــ’’مصنوعی‘‘قراردیتے ہوئے کئی باراس بات کاذکرکیاکہ کینیڈاامریکاکی51ویں ریاست بن سکتاہے۔ٹرمپ نے تنقیدکی کہ کینیڈا کی حفاظت کیلئے امریکانے اربوں ڈالرخرچ کیے ہیں جبکہ کینیڈاکی کاروں،لکڑی اوردودھ کی مصنوعات کی درآمدکامسئلہ بھی حل کیا۔میکسیکوکی طرح کینیڈاکو بھی ٹرمپ کے آئندہ دور صدارت میں امریکابرآمدکی جانے والی اپنی اشیاپر25فیصد تک ٹیرف عائدہونے کے خطرے کاسامناہے۔
اپنی ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ان خدشات کابھی اظہارکیاکہ میکسیکواورکینیڈاکی سرحدوں سے منشیات امریکامیں داخل ہورہی ہیں۔تاہم امریکی اعدادوشمار کے مطابق کینیڈااورامریکی سرحدپرپکڑی گئی فینٹینیل کی مقدارامریکاکی جنوبی سرحدکے مقابلے میں نمایاں طورپرکم ہے۔کینیڈانے امریکاکے ساتھ اپنی سرحدپرسکیورٹی کے حوالے سے نئے اقدامات کرنے کاوعدہ کیاہے تاکہ منظم جرائم کوکم کیاجاسکے۔تاہم جسٹن ٹروڈونے کینیڈاکوامریکامیں ضم کرنے کیلئے ٹرمپ کی جانب سے ’’معاشی طاقت‘‘کے استعمال کی دھمکی پرجواب دیتے ہوئے اسے ناممکن قراردیا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ اپنے بین الاقوامی اتحادیوں اورملک میں اپنے حامیوں کوسگنل دے رہے ہیں لیکن امریکامیں اس حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے کہ امیریورپی اتحادی بین الاقوامی سکیورٹی کے تحفظ کیلئے خاطرخواہ اقدامات نہیں کررہے ہیں تاہم سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیرجیمزجیفری نے امریکاکی جانب سے اس ضمن میں کسی بھی فوجی کاروائی یا مداخلت کے امکان کومستردکرتے ہوئے کہاکہ’’ہم گرین لینڈاورکینیڈامیں مارچ نہیں کریں گے،ہم پاناماکینال پرقبضہ نہیں کریں گے، لیکن اس سے کتناہنگامہ ہوگا یہ ایک اورسوال ہے۔بین الاقوامی نظام کوخطرہ ٹرمپ سے نہیں بلکہ روس اورچین سے ہے‘‘۔لیکن برطانوی اخبار’’دی انڈیپینڈنٹ‘‘کے مدیربرائے سیاسی امورڈیوڈ میڈوکس محسوس کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی باتوں کوسنجیدگی سے دیکھناچاہیے۔یہ ٹرمپ کاسامراجی رویہ ہے۔ وہ دنیابھرمیں امریکاکے قدم جماناچاہتے ہیں۔یہ سنگین خطرہ ہے۔ہم ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کوان کے پہلے دورحکومت سے بہت مختلف اندازمیں دیکھنے جارہے ہیں اوریہ باقی دنیاکیلئے بہت غیرمستحکم ہوگا۔
پانامانے بھی ٹرمپ کے ان بیانات پرشدیدغصے کااظہارکیاہے۔20ویں صدی میں پاناماکینال کی تعمیرکاکام سنبھالنے اورکئی دہائیوں کے مذاکرات کے بعد1999میں امریکا نے اس نہرکامکمل کنٹرول پاناماکے حوالے کردیاتھالیکن اب سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ٹرمپ اس اہم بحری گزرگاہ پردوبارہ کنٹرول حاصل کرناچاہتے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہاکہ’’پاناماکینال ہمارے ملک کیلئے اہم ہے۔اس کاانتظام دراصل چین سنبھالے ہوئے ہے جبکہ ہم نے اس کاکنٹرول پاناماکودیاتھا،ہم نے اسے چین کونہیں دیاتھا۔ انہوں نے(پاناماحکام)اس تحفے کاغلط استعمال کیا‘‘۔
تاہم سرکاری اعدادوشمارٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔پاناماکینال اتھارٹی کے اعدادوشمارکے مطابق اس نہرسے گزرنے والی ٹریفک میں امریکی کارگوکاحصہ72 % ہے جبکہ22فیصدحصے کے ساتھ چین دوسرے نمبرپرہے۔واضح رہے کہ چین نے بھی ماضی میں پانامامیں بڑی اقتصادی سرمایہ کاری کی ہے۔پاناماکینال نہ صرف بحرالکاہل میں امریکی تجارت کیلئے بلکہ مستقبل میں چین کے ساتھ کسی بھی فوجی تنازع کی صورت میں بھی امریکاکیلئے انتہائی اہم ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے پانامااتھارٹی پریہ الزام بھی عائدکیاتھاکہ وہ اس بحری گزرگاہ کواستعمال کرنے کے عوض امریکی کارگو کمپنیوں سے نسبتازیادہ پیسے وصول کررہے ہیں۔پاناما سٹی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاناماکے وزیرداخلہ نے ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعدکہاہے کہ’’پاناماکینال کی خودمختاری پرکوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔پاناماکاکنٹرول صرف اس کے باشندوں کے ہاتھ میں ہے اورمسقبل میں بھی ایساہی رہے گا‘‘۔
خطے میں پاناماکینال کی اہمیت کوسمھنے کیلئے یہ جانناضروری ہے کہ ٹرمپ نے پاناماپراپنی ملکیت کادعوی کرنے کابیان کیوں دیاہے۔اس نہرکی تعمیرسے قبل بحری جہازوں کوامریکاکے مغربی یامشرقی کنارے سے دوسری جانب جانے کیلئے برِاعظم جنوبی امریکاکے آخری کونے کیپ ہارن سے ہوکرگزرناپڑتاتھامگراب نہرِپاناماکی وجہ سے یہ سفر8ہزارناٹیکل میل یا15ہزارکلومیٹرکم ہو گیاہے۔اسی طرح شمالی امریکاکے ایک کنارے سے جنوبی امریکاکی کسی بندرگاہ تک جانے میں بھی ساڑھے چھ ہزارکلومیٹر جبکہ یورپ اورمشرقی ایشیایا آسٹریلیا کے درمیان چلنے والے بحری جہازبھی3ہزار700کلومیٹرتک کی بچت کرسکتے ہیں۔اس پورے سفرمیں دوسے تین ہفتے تک کاوقت درکارہوتاتھاتاہم اب نہرِپاناماکے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک صرف 10گھنٹے میں پہنچاجاسکتاہے۔اس انقلابی اورحیرت انگیزتبدیلی کاسب سے زیادہ فائدہ چین کو مل رہاہے کیونکہ چین کی پالیسی تجارتی منڈیوں کے حصول سے دنیاکی ایسی سپرپاوربنناہے کہ جس سے اقوام عالم بھی معاشی ترقی کی طرف گامزن ہوں جبکہ ٹرمپ ایک سرمایہ دارتاجرکے ساتھ امریکاجیسے طاقتورملک کا صدربھی بن گیاہے اوراپنی اس خواہش کی تکمیل کیلئے دوسرے ملکوں پرتسلط کی دہمکیاں دیکردنیاپرحکمرانی کاخواب دیکھ رہاہے جبکہ ایسے خواب کی تکمیل کیلئے اب تک درجنوں ممالک میں شکست سے دوچارہوچکاہے۔