ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس

 ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے:عدالت کا تحریری حکمنامہ
سپریم کورٹ نے نذر عباس کی توہین عدالت کے خلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی

 اسلام آباد ( آن لائن)سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے نذر عباس کے خلاف جاری توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیاہے اور پروسیجر اور ججز کمیٹی کے اختیارات کا معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا ہے۔توہین عدالت کیس کا 20 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ بھی جاری کردیا گیا۔ عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے جان بوجھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔عدالت نے قرار دیا  ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے، تاہم نذر عباس کے خلاف مزید کارروائی ختم کر دی گئی۔سپریم کورٹ نے کمیٹیوں کے اختیارات سے متعلق معاملے پر فل کورٹ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے اور اس حوالے سے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ انتظامی سطح پر جوڈیشل احکامات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، بادی النظر میں توہین عدالت کی کارروائی ججز کمیٹیوں کے خلاف ہوتی ہے، تاہم، ججز کمیٹیوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی جا رہی۔دریں اثناء سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کی توہین عدالت کے خلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی، عدالت نے قرار دیا ہے کہ بینچ کی اکثریت انٹراکورٹ اپیل نمٹانے کی وجوہات دے گی جسٹس جمال مندوخیل نے 2 رکنی بینچ کے فیصلے پر اظہار ناراضی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جس انداز میں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیاگیا، اب میں کمیٹی اجلاس میں نہیں جا?ں گا.تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کی توہین عدالت شوکاز نوٹس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 6 رکنی ریگولربینچ نے سماعت کی سماعت کے آغاز میں درخواست گزار نذر عباس کے وکیل نے اپیل واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت کی اجازت ہو تو اپیل واپس لینا چاہتے ہیں. جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنا دعویٰ واپس لے سکتے ہیں، درخواست اب ہمارے سامنے لگ چکی ہے جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اپ اپنی اپیل کیوں واپس لینا چاہتے ہیں؟ وکیل نے موقف اپنایا کہ توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا گیا ہے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسا تھا تو آپ پہلے بتا دیتے جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا توہین عدالت کارروائی ختم ہونے کا آرڈر آچکا ہے؟نذر عباس کے وکیل نے کہا کہ جی آرڈر آچکا ہے اور عدالت میں جسٹس منصور کا فیصلہ پڑھ کر سنا دیا وکیل نے کہا کہ دونوں کمیٹیوں کیخلاف توہین عدالت معاملے پر فل کورٹ کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا ہے.