شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے اہلِ خانہ کی میتیں تہران میں عوامی دیدار کے لیے رکھ دی گئی ہیں، جہاں ہزاروں افراد اپنے رہبر کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں عوام کی بڑی تعداد تعزیت اور الوداع کہنے کے لیے موجود ہے۔ شہری مختلف مقامات سے پہنچ کر شہید رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق کل تہران میں نمازِ جنازہ کا مرکزی اجتماع منعقد ہوگا، جس کے بعد 6 جولائی کی صبح جنازے کا جلوس تہران سے قم روانہ ہوگا۔حکام کا کہنا ہے کہ تدفین سے قبل آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کی میت عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا بھی لے جائی جائے گی، جبکہ بعد ازاں انہیں مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔گزشتہ روز وزیرِ اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاکستانی وفد اور مختلف ممالک کے رہنماؤں نے تہران پہنچ کر شہید ایرانی رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے شہید آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی اور حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے ایران کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کی قیادت، بصیرت اور خطے پر ان کے اثرات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جبکہ پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔