بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں معروف سابق مسلمان یوٹیوبر سلیم واسٹک کو ان کے گھر میں چاقو کے متعدد وار کرکے شدید زخمی کر دیا گیا۔
حملے کے بعد وہ تشویش ناک حالت میں دہلی کے اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق حملہ کل صبح ہوا جب دو نامعلوم افراد بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکل پر آئے اور ہیلمٹ پہنے ہوئے سلیم کے گھر میں داخل ہو گئے۔ حملہ آوروں نے 50 سالہ سلیم واسٹک کی گردن اور پیٹ پر کئی وار کیے اور گلا کاٹنے کی کوشش بھی کی۔اہلِ خانہ اور مقامی افراد نے فوری طور پر سلیم کو اسپتال منتقل کیا، جس کے بعد تشویش ناک حالت کے باعث انہیں دہلی کے اسپتال ریفر کر دیا گیا۔واقعے کے بعد سلیم واسٹک کے بیٹے عثمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں دو نامعلوم حملہ آوروں کے علاوہ اشفاق، سونو، شاہ رخ نیتا، بھاٹی بلڈر اور ایک مقامی اے آئی ایم آئی ایم رہنما اجگر کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور اطراف کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق حملے کی وجوہات کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سلیم واسٹک سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر سرگرم رہے ہیں اور مختلف ٹی وی پروگراموں میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔ وہ اسلام سے علیحدگی کے بعد اپنے بیانات کی وجہ سے پہلے بھی خبروں میں رہ چکے ہیں۔