تنازع میں شد ت آنے پر تشویش ہے‘ دونوں فریقین تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں‘دونوں کے تعلقات بہتر بنانے کیلئے تعمیری کردارادا کرنے کو تیار ہیں:چین
مناسب ہے افغانستان،پاکستان اختلافات کو بات چیت سے حل کریں:ایران‘درخواست کی گئی تو پاکستان اور افغانستان کیلئے ثالثی پرغور کیا جاسکتا ہے،روسی وزارت خارجہ
ٍُْبیجنگ‘تہران‘ماسکو(آئی این پی )چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے وہ دونوں ممالک کے درمیان جاری پرتشدد جھڑپوں کو ختم کرانے کے لئے فریقین سے رابطے میں ہے۔پاک افغان کشیدگی پر ترجمان چینی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان قریبی ہمسایہ ممالک ہیں اور دونوں چین کے بھی پڑوسی ہیں، چین تنازع میں شدت آنے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین موجودہ صورتحال میں ہونے والی پیش رفت کو بغور دیکھ رہا ہے، چین تنازع میں شدت آنے پر گہری تشویش رکھتا ہے، اس تصادم میں ہونے والی جانی ہلاکتوں پر دلی افسوس کا اظہار کرتا ہے، چین ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہناتھا کہ چین دونوں فریقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں‘پاکستان سے قطر اور سعودی عرب کے بعد ترکیہ نے بھی رابطہ کیا ہے اور افغانستان کے ساتھ موجودہ صورت حال پر بات کی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار اور ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے، وزرائے خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔اسحاق ڈار نے ترک ہم منصب کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے بلااشتعال افغان جارحیت کا موثر اور مناسب جواب دیا، پاکستان نے اپنے تحفظ کے لیے آپریشن غضب لِلحق کے تحت کامیاب فضائی کارروائیاں کیں۔یرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مناسب ہے افغانستان اور پاکستان اختلافات کو بات چیت سے حل کریں، پاکستان افغانستان بات چیت میں ایران سہولت اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔دوسری جانب روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان فوری طورپر ایک دوسرے کے خلاف حملے روکیں اور دونوں ممالک اختلافات کو بات چیت سے حل کریں۔روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا درخواست کی گئی تو پاکستان اور افغانستان کے لیے ثالثی پرغور کیا جاسکتا ہے‘ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹفین دوجارک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری جنرل صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون، خصوصا بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جاری کشیدگی کے دوران شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔اقوام متحدہ نے دونوں فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔