جب تاریخ سانس روکے کھڑی تھی

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی ستیووِٹکوف اوراپنے دامادجیرالڈکشنزکی ایران کے ساتھ اچھی ملاقاتوںکاذکرکیا،مگرساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیاکہ ایران کے ساتھ بامعنی معاہدہ آسان نہیں۔تاہم بیک ڈورچینل کی ملاقاتیں اس بات کااشارہ ہیں کہ پسِ پردہ سفارتکاری جاری ہے یہ پسِ پردہ سفارت کاری بعض اوقات رسمی مذاکرات سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس میں لچک اور رازداری زیادہ ہوتی ہے۔
وائٹ ہاس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کابیان اس امرکی علامت ہے کہ واشنگٹن تاحال سفارتی حل کوترجیح دیتاہے،اگرچہ عسکری آپشن کومیزسے ہٹایانہیں گیا۔انہوں نے مزید کہاایران کیلئے معاہدہ کرنادانشمندانہ ہوگا،اورصدراب بھی سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن عسکری آپشن کومیز پررکھتے ہوئے بھی سفارت کوترک نہیں کرناچاہتا۔یہ بیان سفارت کی آخری کھڑکی کوکھلارکھنے کی سعی معلوم ہوتاہے لیکن بعض سیاسی مبصرین ٹرمپ کی سابقہ پالیسیوں کودیکھتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہرکررہے ہیں کہ ٹرمپ کبھی بھی عالمی سیاست میں دہماکہ کرسکتے ہیں۔
ابتدامیں بورڈآف پیس کامقصد اسرائیل اورحماس کے درمیان غزہ کی جنگ کاخاتمہ سمجھاجاتاتھا،اسی لئے ابتدامیں بورڈآف پیس کامقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کی نگرانی بتایا گیاتھا،مگراب اس کادائرہ وسیع ہوچکاہے اوریہ اس تاثرکوتقویت دیتاہے کہ امریکابعض معاملات میں اقوام متحدہ سے ہٹ کرمتوازی سفارتی پلیٹ فارم قائم کرناچاہتاہے۔یہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کااشارہ ہوسکتاہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ اقدام عالمی سیاست میں اقوام متحدہ کوپسِ پشت ڈالنے کی کوشش بھی ہوسکتاہے۔اگرایساہے تویہ عالمی نظم میں ایک بڑی تبدیلی کااشارہ ہوگا۔نئے اختیارات پرغوراس تسلسل کی کڑی ہے،جوکسی بھی وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔
گزشتہ برس ایرانی جوہری تنصیبات پرحملہ اس حقیقت کاثبوت ہے کہ عسکری کارروائی محض نظری مفروضہ نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی ہے۔گزشتہ برس امریکی میزائلوں اورطیاروں نے ایرانی جوہری تنصیبات کونشانہ بنایاتھا۔اطلاعات ہیں کہ وائٹ ہاس اس ہفتے نئے حملے کے اختیارات پرغورکررہاتھا۔یہ تسلسل ظاہرکرتاہے کہ عسکری آپشن محض نظریاتی بحث نہیں
بلکہ عملی امکان ہے۔یہ امرظاہر کرتاہے کہ عسکری آپشن محض نظری بحث نہیں بلکہ عملی امکان بھی ہے۔
ایران اورامریکاکے درمیان جاری کشمکش دراصل طاقت اورقانون،خودمختاری اورعالمی دبا،سفارت اورعسکریت کے درمیان ایک پیچیدہ مکالمہ ہے۔ایران اورامریکاکے مابین یہ کشمکش محض دوریاستوں کانزاع نہیں،بلکہ عالمی طاقت کے توازن،خودمختاری کے مفہوم،اورسفارت وعسکریت کے باہمی تعلق کاامتحان ہے۔تہران کالہجہ دفاعی خوداعتمادی کا مظہر ہے اوروہ اپنے وقاراوردفاعی حق پر اصرارکررہاہے،جبکہ واشنگٹن کی حکمتِ عملی دبااورمذاکرات کے امتزاج پرمبنی دکھائی دیتی ہے۔اسرائیل کاعنصر،علاقائی اتحادیوں کی موجودگی ، اورعالمی طاقتوں کی خاموش نظریں اس بحران کومزید پیچیدہ بناتی ہیں۔
یہ منظرنامہ ہمیں یاددلاتاہے کہ تاریخ تواس کی تپش سرحدوں کی قیدمیں نہیں رہے گی۔اوراگرسفارت غالب آئی تویہ بحران عالمی سیاست کے دفترمیں ایک کامیاب باب کہلائے گا؛ عالمی سیاست کے دفترمیں مشکلات اورآزمائش کے دھارے میں وہی قومیں سرخروہوتی ہیں  جوتدبراورتوازن کے ساتھ فیصلے کرتی ہیں۔اوراگرعسکریت غالب آئی تومشرقِ وسطی کی سرزمین ایک بارپھربارودکی بوسے معطریاشایدمعکدرہوجائے گی۔۔یادرکھیں کہ اگرجنگ کی آگ اگربھڑک اٹھی توایک اورسیاہ اورمکروہ باب رقم ہوکررہ جائے گامگروہ باب بھی ہمیں یہ سکھائے گا کہ طاقت کی منطق کے ساتھ حکمت کی روشنی لازم ہے،ورنہ اندھیراسب کواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔تاریخ کی آنکھ اس منظرکوبغوردیکھ رہی ہے کہ آیاعقل کی روشنی غالب آتی ہے یاطاقت کاغرور۔تاریخ کے افق پرابھی دھند چھائی ہوئی ہے۔مگراتناواضح ہے کہ آئندہ چنددن نہ صرف ایران اورامریکابلکہ پوری دنیا کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔عقل اورحکمت کی روشنی اگر غالب آئی توامن کی شمع روشن رہے گی؛اوراگرطاقت کاغرورغالب آیاتویہ شمع آندھیوں کے نرغے میں آسکتی ہے۔
آج جب ہم اس بحران کے دہانے پرکھڑے ہیں تومحسوس ہوتاہے کہ تاریخ ایک بارپھرانسانیت کاامتحان لے رہی ہے۔ایران اورامریکاکی کشمکش محض دوریاستوں کانزاع نہیں؛ یہ عالمی نظم،بین الاقوامی قانون اورانسانی بقاکاسوال ہے۔اگرطاقت کے بل پرفیصلے مسلط کیے گئے،اگراقوامِ متحدہ کومحض ایک رسمی ادارہ بناکرپسِ پشت ڈال دیاگیا،توپھر دنیاایک خطرناک مثال قائم کرے گی ایسی مثال جوآنے والے برسوں میں ہرطاقتورریاست کویکطرفہ اقدام کاجوازفراہم کرسکتی ہے۔
امن پسند قوموں کی خاموشی دراصل اسی لیے تشویش ناک ہے کہ جنگ کبھی سرحدوں میں مقیدنہیں رہتی۔ایک خطے کی آگ دوسرے براعظم کی فضاکوبھی دھواں آلودکردیتی ہے۔ اگرآج مشرقِ وسطیٰ سلگ رہاہے توکل یورپ اورایشیابھی اس کی تپش محسوس کریں گے۔ دانشوروں کی صدائیں اگرچہ بلندہورہی ہیں،مگرجب تک عوامی دباؤحکومتوں کومجبورنہ کرے،یہ صدائیں اقتدارکے ایوانوں میں گونج کررہ جاتی ہیں۔یہ وقت ہے کہ عالمی ضمیربیدارہو۔یہ وقت ہے کہ طاقت کے ایوانوں کویہ باورکرایاجائے کہ دنیاکسی ایک نظریے، کسی ایک لابی یا کسی ایک ملک کی جاگیرنہیں۔اگرعالمی سیاست کویک قطبی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی تواس کاردِعمل بھی عالمی سطح پر ظاہرہوگا۔اوراگرجنگ کی آگ بھڑک اٹھی تواس کاانجام کسی کے قابو میں نہیں رہے گا۔تاریخ کی آنکھ ہم سب کودیکھ رہی ہے۔آنے والی نسلیں یہ سوال کریں گی کہ جب دنیاایک اورتباہی کے دہانے پرکھڑی تھی توامن کے داعی کہاں تھے؟کیاوہ خاموش تماشائی تھے یاانہوں نے ظلم کے مقابلے میں آوازبلندکی؟
آج ضرورت اس امرکی ہے کہ اقوامِ عالم،اہلِ دانش،مذہبی واخلاقی رہنمااورعوام سب مل کراس آگ کوبھڑکنے سے پہلے بجھانے کی کوشش کریں۔کیونکہ اگراس بارجنگ کی چنگاری شعلہ بن گئی توشایداسے بجھانے کیلئیکوئی عالمی ادارہ،کوئی سفارتی میزاورکوئی دانشورانہ اپیل کافی نہ ہو۔امن کی شمع ابھی بجھی نہیںمگراس کے گردآندھیاں ضرورمنڈلارہی ہیں۔فیصلہ ہمیں کرناہے کہ ہم اس شمع کواپنے ہاتھوں سے بچاتے ہیں یااسے طاقت کی آندھیوں کے سپردکردیتے ہیں۔