سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے بعض موڑایسے ہوتے ہیں جہاں اقوام کی خاموشی بھی ایک جرم بن جاتی ہے اوربے حسی بھی ایک فیصلہ۔آج جب مشرقِ وسطی کی فضامیں بارودکی بوگھل رہی ہے،جب سفارت کی میزپررکھے ہوئے کاغذات کے نیچے عسکری تیاریوں کی لرزش صاف سنائی دے رہی ہے،توسوال یہ نہیں کہ ایران اورامریکا کے درمیان کشیدگی کیوں ہے؛اصل سوال یہ ہے کہ دنیاکی امن پسند قومیں کہاں ہیں؟وہ آوازیں کہاں گئیں جوویت نام،عراق اورافغانستان کی جنگوں کے خلاف سڑکوں پراترآئی تھیں؟وہ دانشور کہاں ہیں جوطاقت کے غرور کوللکاراکرتے تھے؟
آج اگرچہ بیشترمغربی ممالک کے اہلِ قلم،اساتذہ اوردانشور ایک مرتبہ پھرچیخ چیخ کراپنی حکومتوں کوخبردارکر رہے ہیں کہ جنگ کی آگ پورے عالم کوجلاسکتی ہے،مگراقتدارکی راہداریوں میں یہ صدائیں مدھم پڑجاتی ہیں۔ امریکی صدرکی قیادت میں واشنگٹن جس طرزِ سیاست کی جانب بڑھ رہاہے،وہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی امن کیلئیبھی ایک آزمائش ہے۔اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے کوعملا نظر اندازکرتے ہوئے یکطرفہ فیصلوں کارجحان اس امرکی نشاندہی کرتاہے کہ طاقت کی سیاست ایک بارپھر قانون کی بالادستی پرغالب آنا چاہتی ہے۔اقوام متحدہ کاقیام اسی لیے عمل میں آیاتھا کہ عالمی تنازعات کوگفت و شنیدکے ذریعے حل کیاجائے،مگراگراسے محض رسمی مہربنادیاجائے توپھرعالمی نظم کاستون متزلزل ہو جاتاہے۔
بعض مبصرین کے نزدیک یہ صورتِ حال اس عالمی تصورکی بازگشت ہے جسے کبھی یہودی نژادہنری کیسنجرجیسے امریکی مفکرین اورپالیسی سازوں نے عالمی طاقت کے نئے توازن کے طورپرپیش کیاتھاایک ایساتصورجس میں طاقت کے مراکزمحدوداورفیصلے چندہاتھوں میں مرتکزہوں۔اگرموجودہ امریکی پالیسی واقعی اسی سوچ کی عملی تعبیرہے تویہ سوال اوربھی سنگین ہوجاتاہے کہ کیاعالمی برادری ایک مرتبہ پھرطاقت کی یک قطبی تعبیرکے سامنے سرنگوں ہونے جارہی ہے؟
ایران اپنی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منشورکے آرٹیکل51کے تحت اپنے دفاع اورخودمختاری کے حق کااعلان کررہاہے۔اس کااستدلال یہ ہے کہ وہ جنگ کاآغاز نہیں کرے گا، مگرجارحیت کاجواب ضروردے گا۔یہ مؤقف خواہ کسی کے نزدیک قابلِ قبول ہویانہ ہو،مگراس میں ایک قانونی اورخودمختارانہ لہجہ ضرورموجودہے۔اگریہ کشیدگی بڑھتی ہے توبعید نہیں کہ خطے کی جنگ کسی وسیع ترعالمی تصادم میں تبدیل ہوجائے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی جنگیں ہمیشہ کسی ایک چنگاری سے شروع ہوئیںاورپھردیکھتے ہی دیکھتے پوراافق شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔
ایسے میں یہ سوال اوربھی اہم ہوجاتاہے کہ دنیاکی امن پسند قومیں کیوں خاموش ہیں؟کیااقتصادی مفادات نے ضمیرکی آوازکودبادیاہے؟ کیااسلحہ سازصنعتوں کامنافع انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہوچکاہے؟یاپھرعالمی سیاست اس مقام پرپہنچ چکی ہے جہاں اصول محض تقریروں کی زینت اورطاقت اصل فیصلہ کن عنصربن گئی ہے؟یہ مضمون اسی کرب، اسی سوال اوراسی تاریخی لمحے کی بازگشت ہیجہاں ہمیں یہ طے کرناہے کہ ہم تماشائی رہیں گے یاتاریخ کے دھارے کوبدلنے کی جرت کریں گے۔
عصرِحاضرکی سیاست میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ محض بیانات نہیں رہتے،بلکہ تاریخ کے سینے پرلکھی جانے والی تحریرکاپیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ایران اورامریکا کے مابین حالیہ کشیدگی بھی ایساہی ایک لمحہ ہیجہاں سفارت کی نرم گفتاری اور عسکری قوت کی سخت آہنی چاپ ایک ساتھ سنائی دیتی ہے۔یہ نزاع محض دوریاستوں کے اختلاف کا عنوان نہیں،بلکہ عالمی طاقت کے توازن،خودمختاری کے مفہوم،اوربین الاقوامی قانون کی عملداری کاامتحان ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک باضابطہ خط ارسال کیا،جس میں نہایت دوٹوک الفاظ میں یہ مقف اختیارکیاگیاکہ اگرایران پرکسی نوع کیفوجی جارحیتمسلط کی گئی تووہ اپنے دفاع کاحق استعمال کرے گااوروہ جواب دینے میں تامل نہ کرے گا۔اس مراسلے میں اس امرکی بھی صراحت کی گئی کہ تصادم کی صورت میں خطے میں موجوددشمن طاقتسے وابستہ تمام اڈے،عسکری سہولیات اورتزویراتی اثاثے جائزاہداف تصورکیے جائیں گے۔اس مراسلے کالبِ لباب یہ تھاکہ ایران کسی قسم کی جنگ کاآغاز نہیں کرے گا،لیکن اگراس کی خودمختاری پرضرب لگائی گئی تووہ اقوامِ عالم کے منشورکے تحت اپنے دفاع کاحق استعمال کرے گا۔تاہم اس بیانِ عزم کے ساتھ تہران نے یہ بھی باورکرایا کہ وہ نہ کشیدگی کاخواہاں ہے اورنہ جنگ کاآغازکرے گا۔گویا تلوارنیام میں ہے،مگرہاتھ کی گرفت ڈھیلی نہیں۔
یہ بیان محض عسکری عزم کااظہارنہیں تھا،بلکہ ایک قانونی واخلاقی استدلال بھی تھا۔ایران نے اقوامِ متحدہ کیمنشور کے آرٹیکل51کا حوالہ دیتے ہوئے دفاع کے حق کوبین الاقوامی قانون میں تسلیم شدہ اصول قراردیا۔یہاں تہران نے محض عسکری ردِعمل کی دھمکی نہیں دی بلکہ ایک قانونی بنیادبھی فراہم کیگویاوہ عالمی ضمیرکوگواہ بناکرکہہ رہاہے کہ اس کااقدام جارحیت نہیں بلکہ دفاع ہوگا۔اس طرزِ استدلال سے ایران عالمی رائے عامہ کواپنے حق میں ہموارکرنے کی سعی کررہاہے۔گویاتہران نے اپنی ممکنہ کارروائی کو پیشگی قانونی جواز فراہم کیاایک ایساجوازجوعالمی رائے عامہ کومخاطب کرتاہے۔
ایران نے امریکی صدرکے بیانات کومحض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہفوجی جارحیت کے حقیقی خطریکامظہرقراردیا۔تہران کے نزدیک جب طاقتورریاست کاسربراہ فوجی کارروائی کی بات کرتاہے تووہ الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے،بلکہ پالیسی کاامکان بن جاتے ہیں صدرٹرمپ کی زبان میں جوسختی اورجوحتمیت تھی،اس نے تہران کے شبہات کویقین میں بدل دیاکہ واشنگٹن عسکری آپشن کوسنجیدگی سے زیرِغوررکھے ہوئے ہے۔
تہران کے نزدیک یہ لب ولہجہ محض لفظی گھن گرج نہیں بلکہ خطے کی سلامتی اوراستحکام کے افق پرابھرتاہواایک اندیشہ ہے،جو کسی بھی لمحے شعلہ بن سکتاہے۔یہاں قابلِ توجہ امریہ ہے کہ جدید سفارت کاری میں بیانات خودایک تزویراتی ہتھیاربن چکے ہیں۔جب کسی طاقتورریاست کاسربراہ بری چیزوںکی بات کرتاہے تووہ الفاظ نفسیاتی دبا،داخلی سیاست اور خارجی پیغام رسانیتینوں کا مرکب ہوتے ہیں۔ایران اس خطرے کواجاگر کرکے خطے کے ممالک کومتنبہ کرناچاہتاہے کہ کسی بھی مہم جوئی کااثرصرف ایران تک محدودنہیں رہے گابلکہ پورامشرقِ وسطی اس کی لپیٹ میں آسکتاہے۔
جمعرات کوٹرمپ نے ایران کوجاری مذاکرات میںبامعنی معاہدے تک رسائی کیلئے زیادہ سے زیادہ10دن کی مہلت دی،ٹرمپ کی جانب سے دس دن کی مہلت دینادراصل ایک نفسیاتی دباؤکی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔یہ طرزِبیان مذاکرات کووقت کی قیدمیں لاکرفریقِ ثانی کوجلدفیصلہ کرنے پرمجبورکرتاہے۔یہ اعلان بظاہرایک سفارتی پیشکش تھا،مگراس کی ساخت میں دباؤکی کیفیت نمایاں تھی۔وقت کی تحدیدمذاکرات کونفسیاتی دائرے میں قیدکردیتی ہے،جہاں فریقِ ثانی کوجلدی فیصلہ کرنے پرآمادہ کیاجاتاہے۔(جاری ہے)