ایم زیڈ کنول
کچھ تاریخیں محض ہندسے نہیں ہوتیں، دل پر کندہ زخم ہوتی ہیں۔ 8 اکتوبر 2005ء کی وہ منحوس صبح بھی ایسی ہی ایک تاریخ تھی، جب صبح کے ساڑھے آٹھ بجے پشاور کی فضا نے اچانک اپنا رنگ بدلا۔ گلابوں کے شہر کا آسمان پلک جھپکتے میں دھول کی سرمئی چادر میں لپیٹ گیا اور زمین نے ایک ایسا ہولناک جھٹکا لیا جیسے کوئی جاں بلب دیو اپنی آخری ہچکی لے رہا ہو۔ وہ محض ایک زلزلہ نہیں تھا، بلکہ وقت کا ایک ایسا تازیانہ تھا جس نے انسان کے غرور اور تعمیرات کے کاغذی محلوں کو پل بھر میں پیوندِ خاک کر دیا۔
سرحد کے اس قدیم اور زندہ دل شہر نے یوں تو تاریک دور، جنگیں اور بارود کی بو دیکھی تھی، لیکن اس دن پشاور کی بوڑھی مٹی نے جو خوف محسوس کیا، وہ بالکل مختلف تھا۔ قلعہ بالاحصار کی صدیوں پرانی دیواریں کانپ اٹھیں، اور بازارِ قصہ خوانی کی وہ گلیاں جہاں کبھی قصے اور داستانیں سرسبز ہوا کرتی تھیں، اچانک آہوں اور چیخوں کے نوحوں میں بدل گئیں۔ گلیوں اور چوہراستوں پر کھڑے شیشے کے جدید برج یوں ٹوٹ کر بکھرے جیسے کسی نے بساطِ سیاست پر مہرے الٹ دیے ہوں۔ انسان اپنی بساط اور تدبیر کے ساتھ کتنا بے بس ہے، اس کا عملی سبق زمین کے ان چند سیکنڈوں کے رقصِ بسمل نے دے دیا۔
اس قدرتی آفت نے جہاں عمارتوں کو ڈھایا، وہاں انسان کی فانی وجود اور خواہشات کے سراب کو بھی بے نقاب کر دیا۔ وہ لوگ جو چند لمحے پہلے اپنے خوابوں کی تعبیر میں مگن تھے، اچانک ملبے کے نیچے دبے اپنے پیاروں کی سانسیں تلاش کرنے لگے۔ پشاور کی فضاؤں میں اس دن صرف خاکی گرد نہیں اڑی تھی، بلکہ انسانی بے بسی کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ مسجدوں کے میناروں سے اٹھنے والی صدائیں اور ایمبولینسوں کے سائرن مل کر اک ایسا المیہ نغمہ گونج رہے تھے جس نے روح تک کو چھلنی کر دیا۔
لیکن اسی راکھ کے ڈھیر سے انسانی ہمدردی اور اخوت کا وہ جذبہ بھی بیدار ہوا جس نے صدمے کی شدت کو سہارا دیا۔ خیبر سے لے کر پنجاب اور سندھ تک، دکھ کی اس تاریک رات میں اخوت کی شمعیں روشن ہوئیں۔ پشاور کے ہسپتال درد کی آماجگاہ ضرور بنے، مگر وہاں بہتا ہوا خون دینے والوں کی قطاریں اس بات کا ثبوت تھیں کہ زندگی ابھی ہاری نہیں۔ زلزلے کی اس بھیانک لہر نے سنگین عمارتوں کو تو توڑ دیا، مگر انسانیت کے رشتوں کو اور مضبوط کر دیا۔
?2005ء کا وہ زلزلہ آج بھی پشاور کی یادداشت میں ایک گہرے سائے کی طرح قائم ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کے اس عظیم کینوس پر انسان کی حیثیت محض ایک تنکے کی سی ہے، اور یہ زمین جب بھی اپنا رخ بدلتی ہے، غرور کا ہر بت پاش پاش ہو جاتا ہے۔ آج بھی جب پشاور کے پرانے درختوں سے ہوا گزرتی ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے وہ مٹی ان تمام بچھڑنے والوں کے لیے خاموش فاتحہ پڑھ رہی ہو جو اس دن زمین کے آغوش میں ہمیشہ کے لیے سو گئے تھے۔