اسلام آباد:ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائلز کے فیصلے کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سامنے جاری ہے، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے ہیں۔
عدالتی کارروائی:
دورانِ سماعت، بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل عزیز بھنڈاری نے مؤقف اپنایا کہ آئین بنیادی حقوق پر قدغن کی اجازت نہیں دیتا اور عام ترامیم بنیادی حقوق کو متاثر نہیں کرسکتیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر آرمی ایکٹ کے سیکشن ڈی کو ہٹا دیا جائے تو کیا ملٹری جسٹس سسٹم پھر بھی فعال رہے گا؟ وکیل نے جواب دیا کہ نظام تو چلتا رہے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں کن افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے اور کنہیں نہیں۔وکیل نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 175 سویلینز کے ٹرائل کے لیے بنیادی شرط ہے اور فوجی عدالتیں اس دائرے سے باہر ہیں۔ اسی طرح، فوج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ہی کام کرسکتی ہے اور اس سے تجاوز نہیں کرسکتی۔
جسٹس جمال مندوخیل کے سوالات:
کیا آرٹیکل 8(3) کے تحت قائم عدالتیں دوسرے افراد کے ٹرائل کر سکتی ہیں؟
کیا ایگزیکٹیو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار استعمال کر سکتی ہیں؟
کیا عدالتوں کو مکمل طور پر آزاد ہونا چاہیے؟
وکیل عزیز بھنڈاری نے کہا کہ وہ عدالتی وقفے کے بعد ان سوالات کے تفصیلی جوابات دیں گے۔