راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں:جسٹس محمد علی مظہر‘ لگتا ہے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں: جسٹس جمال مندوخیل
مجھ پر بھی اکسانے کا الزام لگا لیکن گرفتار نہیں ہوا:وکیل فیصل صدیقی‘ آپ کو اب گرفتار کرا دیتے ہیں:جسٹس جمال مندوخیل‘ آپ ججز کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی کچھ نہیں کر سکتا:وکیل‘سماعت پیر تک ملتوی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی۔سماعت کے آغاز پر سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمانڈنگ افسرز نے ملزموں کی حوالگی کے لیے درخواستیں دیں، درخواستوں کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوا کہ ابتدائی تفتیش میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا جرم بنتا ہے، درخواست کے یہ الفاظ اعتراف ہیں کہ تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی، ملزمان کی حوالگی کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی وجوہات مضحکہ خیز ہیں، انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج نے ملزمان کی حوالگی کے احکامات دیئے، عدالت نے ملزموں کو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی قصور وار لکھ دیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، آرمی ایکٹ سیکشن 59 (1) کے تحت فوجی افسران کی قتل و دیگر جرائم میں سول عدالت سے کسٹڈی لی جا سکتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے کہا کہ میرے حساب سے تو 59 (4) کا اطلاق بھی ان پر ہی ہوتا ہے جو آرمی ایکٹ کے تابع ہوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جن مقدمات میں حوالگی کی درخواستیں دی گئیں ان میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں تھیں، جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل سے کہا کہ ایک ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات بھی عائد تھیں جس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ ایف آئی آر مجھے ریکارڈ میں نظر نہیں آئی۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا عدالتیں اسی لیے ہوتی ہیں کہ قانون کا غلط استعمال روکا جا سکے، احمد فراز کو شاعری کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا، عدالت نے ریلیف دیا تھا، ان پر الزام تھا کہ شاعری کے ذریعے آرمی افسر کو اکسایا گیا، احمد فراز اور فیض احمد فیض کے ڈاکٹر میرے والد تھے، مجھ پر بھی اکسانے کا الزام لگا لیکن میں گرفتار نہیں ہوا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ہلکے پھلکے انداز میں وکیل کو کہا آپ کو اب گرفتار کرا دیتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا آپ ججز کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی