آئینی ترمیم کیس جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عائشہ ملک میں تلخ جملوں کا تبادلہ جج ایک دوسرے پر آواز اونچی نہ کریں: جسٹس مسرت ہلالی

 سپریم کورٹ رولز کے حوالے سے 24 جج بیٹھے تھے، ان کے سامنے رولز بنے:جسٹس جمال‘ سب کے سامنے نہیں بنے ‘میرا نوٹ موجود ہے:جسٹس عائشہ ملک
میٹنگ منٹس منگوائے جائیں:جسٹس جمال‘ آپ ریکارڈ منگوا رہے ہیں ؟ جسٹس عائشہ‘ یہ کیس آگے نہیں چلے گا جب تک یہ کلیئر نہیں ہوتا:جسٹس جمال 
یہ اندرونی معاملہ ہے  ڈسکس نہ کیا جائے:اٹارنی جنرل‘ مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے، 24 ججز کی میٹنگ ہوئی‘ کچھ شقوں کے حوالے سے معاملہ کمیٹی کو بھیجا گیا :جسٹس جمال
 ان کو جواب دینے دیں، بینچ سپریم رول کے مطابق بنائے جائیں گے:جسٹس جمال مندوخیل کا جسٹس عائشہ ملک سے مکالمہ‘سماعت آج بھی ہوگی
 اسلا م آباد(آئی این پی )26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عائشہ ملک میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔سماعت آج تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔   منگل کو سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کی، انٹرنیٹ ایشو کی وجہ سے آج سماعت لائیو نشر نہیں ہوسکی۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دئیے کہ انٹرنیٹ پرابلم ہے،ویڈیو لنک نشر نہیں کی جائے گی،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ لائیو سٹریمنگ کا لنک ڈائون  ہے۔  سابق صدور سپریم کورٹ بارز کے وکیل عابد زبیری نے دلائل دئیے،عابد زبیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ پارٹی جج پر اعتراض نہیں کر سکتی، مقدمے سننے کا یا نہ سننے کا اختیار جج کے پاس ہے ہماری درخواست فل کورٹ کی ہے۔  جسٹس امین الدین نے ریمارکس دئیے کہ آپ فل کورٹ کی بات نہ کریں،آپ صرف کہیں وہ ججز جو ترمیم سے پہلے سپریم کورٹ میں موجود تھے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ رولز کے حوالے سے 24 ججز بیٹھے تھے، ان کے سامنے رولز بنے۔  جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دئیے کہ سب کے سامنے نہیں بنے میرا نوٹ موجود ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے  میٹنگ منٹس منگوائے جائیں، سب ججز کو ان پٹ دینے کا کہا گیا تھا، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دئیے کہ آپ ریکارڈ منگوا رہے ہیں نا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ یہ کیس آگے نہیں چلے گا جب تک یہ کلیئر نہیں ہوتا۔   اٹارنی جنرل سے دلائل دیتے ہوئے کہا  یہ اندرونی معاملہ ہے اس کو یہاں پر ڈسکس نہ کیا جائے،جسٹس جمال مندوخیل نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا  یہاں مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے، 24 ججز کی میٹنگ ہوئی۔ کچھ شقوں کے حوالے سے معاملہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔ چند ججز نے آٹ پٹ دیا تھا اور چند نے نہیں دیا تھا، ایک طرف سولہ ججز کا کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف کلیکٹو وزڈم کی بات کر رہے ہیں، ہمارے سامنے اس وقت 191 اے موجود ہے جو آئین کا حصہ ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں 191 اے کو سائڈ پر رکھ دیں، کیسے رکھیں؟  جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اس حوالے سے ججمنٹ موجود ہے جس میں لکھا ہوا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس عائشہ ملک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا  ان کو جواب دینے دیں، بینچز سپریم رول کے مطابق بنائے جائیں گے۔ عابد زبیری نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ رول 2025 موجود ہے جس کا نوٹیفکیشن ہوچکا ہے، سپریم کورٹ رول کے آرڈر 11 کے مطابق کمیٹی بینچز بنائے گی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ ان رولز میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ بینچ چیف جسٹس بنائے گا۔ عابد زبیری نے اپنے دلائل میں کہا کہ فل کورٹ بینچ نہیں ہے، آج تک فل کورٹ کیسے بنے۔ آپ کی بھی ججمنٹ موجود ہے۔   جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ فل کورٹ کے حوالے سے 2025 کے رول میں ہونا چاہیے تھا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دئیے کہ ججز ایک دوسرے پر آواز اونچی نہ کریں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ میں پوری قوم کے سامنے سب واضح رکھوں گا، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دئیے کہ ابھی لائیو سٹریمنگ نہیں چل رہی جو پوری قوم دیکھ رہی ہے۔  جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دئیے کہ کمیٹی کے پاس بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ بنانے کا اختیار نہیں، کمیٹی کے اختیارات چیف جسٹس کے اختیارات نہیں کہلائے جاسکتے، دونوں مختلف ہیں، ہم بینچز نہیں بلکہ فل کورٹ کی بات کررہے ہیں۔  جسٹس امین الدین نے ریمارکس دئیے کیا چیف جسٹس فل کورٹ بنا سکتے ہیں جس میں آئینی بینچ کے تمام ججز ہوں؟  وکیل عابد زبیری نے دلائل دئیے کہ چیف جسٹس کے پاس ابھی بھی فل کورٹ بنانے کا اختیار موجود ہے، وکیل عابدزبیری کی جانب سے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا گیا۔ جس میں کہا گیا کہ فل کورٹ تشکیل دینے کی ڈائریکشن دی جاسکتی ہے۔  جسٹس امین الدین نے ریمارکس دئیے کہ آپ ہمیں کہہ رہے کہ چیف جسٹس کو فل کورٹ بںانے کا کہیں، ماضی میں چیف جسٹس نے خود فل کورٹ تشکیل دیا۔