سیکرٹ ایکٹ کے تحت بغیر پاس کنٹونمنٹ میں داخلے پر کورٹ مارشل ہوسکتا ہے جسٹس نعیم اختر افغان

 ممنوعہ جگہوں پر جانے پر ملٹری ٹرائل شروع ہوئے تو کسی کا بھی ٹرائل کرنا بہت آسان ہوگا، کیا ملٹری کورٹس میں زیادہ سزائیں ہوتی ہیں ‘ عام عدالتوں میں ٹرائل کیوں نہیں چلتے: جسٹس جمال مندوخیل 
ممنوعہ جگہوں کی واضح تعریف ضروری ہے، ڈیفنس آف پاکستان اور ڈیفنس سروسز دو علیحدہ تصورات ہیں، شاپنگ مالز یا مرکزی شاہراہوں کو ممنوعہ علاقہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا:جسٹس محمد علی مظہر
 ججوں کی تقرری پروزیراعظم گورنر کی ایڈوائز ماننے کے پابند نہیں :اٹارنی جنرل‘ اس کا مطلب ہے وزیر اعظم جو کرنا چاہے کر سکتے ہیں تو ون مین شو بنا دیں:جسٹس جمال مندوخیل 

اسلام آباد (آئی این پی ) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ سیکرٹ ایکٹ کے تحت اب بغیر پاس کے کنٹونمنٹ میں داخلہ جرم تصور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بغیر اجازت کنٹونمنٹ ایریا میں داخل ہوتا ہے تو اس کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے‘جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں اگر ممنوعہ جگہوں پر جانے پر ملٹری ٹرائل شروع ہوئے تو کسی کا بھی ملٹری ٹرائل کرنا بہت آسان ہوگا، کیا ملٹری کورٹس میں زیادہ سزائیں ہوتی ہیں اس لیے کیسز جاتے ہیں؟ عام عدالتوں میں ٹرائل کیوں نہیں چلتے۔جسٹس محمد علی مظہر نے بھی سوال اٹھایا کہ ممنوعہ جگہوں کی واضح تعریف ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیفنس آف پاکستان اور ڈیفنس سروسز آف پاکستان دو علیحدہ تصورات ہیں، اور شاپنگ مالز یا مرکزی شاہراہوں کو ممنوعہ علاقہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔وکیل خواجہ حارث نے جواب میں کہا کہ صرف وہی جرم فوجی عدالت کے دائرے میں آتا ہے جو مسلح افواج پر براہ راست اثر انداز ہو۔ انہوں نے کہا کہ سروس میں شامل تمام افراد آرمڈ فورسز کے ممبرز ہوتے ہیں، اور ممنوعہ جگہ میں داخل ہونا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ اگر ایسی تشریحات کو تسلیم کیا گیا تو کسی بھی شخص کا ملٹری ٹرائل آسان ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کنٹونمنٹ ایریا میں رہتے ہیں اور بعض اوقات بغیر اجازت اندر نہیں جانے دیا جاتا۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ لاہور، کوئٹہ، گوجرانوالہ میں کینٹ کے علاقے ہیں، ایسے میں تو سویلین انڈر تھریٹ ہوں گے‘دریں اثناو گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ میں ججز تعیناتی کیس کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ اگر وفاق کو مجوزہ آرڈر 2019 پسند نہیں تو دوسرا بنا لے لیکن کچھ تو کرے۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان منظور عدالت میں پیش ہوئے۔ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ ہم مشروط طور پر اپنی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان نے آرڈر 2018 پڑھ کر بھی سنایا۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آرڈر 2018 کے تحت تو ججز کی تعیناتی وزیر اعلی اور گورنر کی مشاورت سے کرنے کا ذکر ہے، گلگت بلتستان میں ججز تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہے۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بتایا کہ وزیراعظم گورنر کی ایڈوائز ماننے کے پابند نہیں ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ اس کا مطلب ہے وزیر اعظم جو کرنا چاہے کر سکتے ہیں تو ون مین شو بنا دیں۔ پارلیمنٹ قانون سازی کر کے اس معاملے کو حل کیوں نہیں کرتی۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس کے لیے پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی۔ جسٹس جمال نے کہا کہ پارلیمنٹ مجوزہ آرڈر 2019 کو ترمیم کر کے ججز تعیناتی کروا سکتی ہے۔