اب تو چرسی تکہ والے کو بھی اصلی چرسی تکہ لکھنا پڑتا ہے: جسٹس مسرت ہلالی

بطور وکیل کیس ہارنے کے بعد  بار میں بہت شور کرتی تھی، کہتی تھی ججز نے ٹرک ڈرائیورز کی طرح اشارہ کہیں کا دیا اور گئے کہیں اور:ریمارکس
 کیا آپ بھی ٹرک چلاتی ہیں؟جسٹس حسن اظہر‘ٹرک تو میں چلا سکتی ہوں، میرے والد ایک فریڈم فائٹر تھے، ساری عمر جیلوں میں  گزری:جسٹس مسرت

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ سماعت کے دورانوکیل فیصل صدیقی نے کہا  عدالتیں اسی لیے ہوتی ہیں  قانون کا غلط استعمال روکا جا سکے، احمد فراز کو شاعری کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا، عدالت نے ریلیف دیا تھا، ان پر الزام تھا کہ شاعری کے ذریعے آرمی افسر کو اکسایا گیا، احمد فراز اور فیض احمد فیض کے ڈاکٹر میرے والد تھے، مجھ پر بھی اکسانے کا الزام لگا، لیکن میں گرفتار نہیں ہوا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ہلکے پھلکے انداز میں وکیل کو کہا کہ آپ کو اب گرفتار کرا دیتے ہیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا  آپ ججز کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سے کہا  احمد فراز کی کونسی نظم پر کیس بنا تھا، مجھے تو ساری یاد ہیں، بطور وکیل کیس ہارنے کے بعد میں بار میں بہت شور کرتی تھی، کہتی تھی ججز نے ٹرک ڈرائیورز کی طرح اشارہ کہیں کا دیا اور گئے کہیں اور، میری بات کو گہرائی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے جسٹس مسرت ہلالی سے کہا  کیا آپ بھی ٹرک چلاتی ہیں؟جسٹس مسرت ہلالی نے کہا  ٹرک تو میں چلا سکتی ہوں، میرے والد ایک فریڈم فائٹر تھے، ان کی ساری عمر جیلوں میں ہی گزری، میرے والد کی شاعری ان کی وفات کے بعد ایک پشتون جرگے میں کسی نے پڑھی تھی، وہاں میرے والد کی شاعری پڑھنے والا گرفتار ہو گیا تھا، شاعری پڑھنے والے نے بتایا کہ کس کا کلام ہے اور اس کی بیٹی آج کون ہے، میرے والد کی شاعری پڑھنے والے کو بہت مشکل سے رہائی ملی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وقت کے حساب سے شاعری اچھی بری لگتی رہتی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اب تو چرسی تکہ والے کو بھی اصلی چرسی تکہ لکھنا پڑتا ہے۔