سابق آرمی چیف نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا:عمر ایوب

سابق آرمی چیف نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا:عمر ایوب

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کرنے کی تجویز دی تھی۔

عمر ایوب نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ جنرل باجوہ کا مؤقف تھا کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف نے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی حمایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں معلومات کا تبادلہ تیز ہوچکا ہے اور اب انٹرنیٹ کی مدد سے ہر بات عوام تک پہنچ جاتی ہے۔

عمر ایوب نے افغانستان کی سرحد پر ہونے والی اسمگلنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 550 ارب روپے کا پیٹرول اسمگل ہو کر آتا ہے، اور اس کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں بلکہ حکومتی اداروں اور افراد پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس اہلکاروں کو میڈیا کے پیچھے جانے کے بجائے ان معاملات کو کنٹرول کرنا چاہیے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی یہ باتیں ٹی وی پر نہیں دکھائی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت اور فوج کی قیادت کے درمیان رابطہ اور فیصلوں میں ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔