اسلام آباد (ویب ڈیسک):وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ ان کا ذاتی اور حتمی فیصلہ تھا، جس میں انہوں نے مشاورت ضرور کی، مگر قیادت کا بوجھ خود اٹھایا۔
تفصیلات کے مطابق، وزیر اعظم نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل پارٹی قائد نواز شریف سے ضرور مشاورت کرتا ہوں، مگر آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنانے کا فیصلہ میرا اپنا تھا۔"
فیلڈ مارشل کے عہدے کی منظوری:
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے جنرل سید عاصم منیر (نشانِ امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے اعلیٰ فوجی اعزاز پر ترقی دینے کی منظوری دی۔سرکاری اعلامیے کے مطابق:"جنرل عاصم منیر کو یہ اعزاز آپریشن بنیان مرصوص میں اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی اور دشمن کو شکست فاش دینے پر دیا گیا ہے۔"
’جنگ کا مستقل حل نہیں، صرف امن ہی ضمانت ہے‘ – وزیراعظم
صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم نے عالمی صورتحال، بھارت سے تعلقات، اور اسرائیل-بھارت گٹھ جوڑ پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔انہوں نے کہا:"جنگ میں کوئی ایک فریق جیتتا ہے تو دوسرا لازماً ہارتا ہے۔ جنگ مسئلے کا مستقل حل نہیں، صرف دیرپا امن ہی مستقبل کی ضمانت ہو سکتا ہے۔"
بھارت سے مذاکرات اور اسرائیلی مدد کا انکشاف:
وزیراعظم نے بتایا کہ:"جنگ کے دوران اسرائیل نے بھارت کی خوب مدد کی۔ بھارت نے سری نگر سمیت مختلف مقامات پر اسرائیلی ساختہ ہتھیاروں کا استعمال کیا۔"مزید کہا کہ:"پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی دہشت گردی سے متعلق مذاکرات ہوں گے، تو دونوں جانب سے قومی سلامتی کے مشیر شریک ہوں گے۔ مگر افسوس کہ بھارت نہ کسی تیسرے ملک میں بات چیت پر آمادہ ہے اور نہ کسی ثالث کی شرکت پر تیار۔"
چار نکاتی ایجنڈا بھارت سے مذاکرات میں شامل ہوگا:
وزیر اعظم نے کہا کہ اگر بھارت سے مذاکرات کی نوبت آئی تو پاکستان کی طرف سے چار اہم نکات پر بات چیت کی جائے گی:
کشمیر کا مسئلہ
پانی کی تقسیم
دوطرفہ تجارت
دہشت گردی کے الزامات اور تعاون
نتیجہ:
وزیر اعظم کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی قیادت داخلی اور خارجی سطح پر اہم فیصلے خود کر رہی ہے۔ ساتھ ہی خطے میں امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اور بھارت سے سنجیدہ، مگر باعزت، مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔ مگر بھارت کی ہٹ دھرمی اب بھی بڑی رکاوٹ ہے۔