لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پاکستان کو درپیش معاشی اور سکیورٹی چیلنجز پر کھل کر اظہار خیال کیا اور مذاکرات میں میثاق معیشت کو شامل کرنے کی تجویز دی۔
ملکی سکیورٹی کے لیے قربانیاں
ایاز صادق نے کہا:آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب پر اربوں روپے خرچ کیے گئے۔سکیورٹی فورسز ہمارے آج کی خاطر اپنا کل قربان کر رہی ہیں۔ملٹری کورٹس کی جانب سے دی گئی سزاؤں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایسی سزائیں نہیں ہوئیں۔نو مئی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا عمل کیا گیا جو بھارتی فوج بھی نہیں کر سکتی تھی۔
مذاکرات کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ:تلخیاں اپنی جگہ مگر بات چیت ناگزیر ہے۔مذاکرات میں میثاق معیشت کو بھی شامل کرنا چاہیے تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
دہشت گردی کے مسائل
ایاز صادق نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی روشنی ڈالی:خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقے دہشت گردی کی زد میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ دہشت گردی کو کون سپورٹ کر رہا ہے۔انہوں نے پاکستان پر پابندیوں کی حمایت کرنے والوں کو "پاکستانی نہیں" قرار دیا۔
معاشی استحکام کے لیے میثاق کی اہمیت
ایاز صادق نے کہا کہ معیشت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔انہوں نے میثاق معیشت کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشی استحکام کے لیے اہم اقدام ہوگا۔یہ بیان ملک میں جاری سیاسی اور معاشی بحران کے دوران سامنے آیا ہے، اور اسپیکر کی جانب سے بات چیت کی حمایت اور قومی یکجہتی پر زور دیا گیا ہے۔