پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے حالیہ خطاب کا تفصیلی خلاصہ ہے۔
انہوں نے مختلف اہم موضوعات پر گفتگو کی، جن میں سیاسی، دفاعی اور علاقائی امور شامل ہیں۔ یہاں آپ کے لیے اس کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے:
اسرائیل سے متعلق پاکستان کا موقف:
سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آٹھ دیگر ممالک نے اسرائیل کے غزہ سے نکلنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے مسئلے پر سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ وہاں قتل و غارت گری جاری ہے۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی:
انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کے لیے یورپی ممالک سے رابطہ کر رہے ہیں اور کوششیں جاری ہیں۔
پالیسی اور عالمی تعلقات:
ایاز صادق نے زور دیا کہ فلسطین کے مسئلے پر سیاست کرنا اہل فلسطین کی خدمت نہیں ہے، کیونکہ وہاں قتل عام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک نے اسرائیل کے غزہ سے نکلنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دفاعی معاہدے اور علاقائی تحفظ:
انہوں نے بتایا کہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اسی طرح پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر بھی حملہ سمجھا جائے گا۔ حرمین شریفین کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص کرم قرار دیا اور کہا کہ دوسرے ممالک بھی پاکستان کے ساتھ سعودی عرب جیسا معاہدہ چاہتے ہیں۔ امریکی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھی پاکستان کی بات کو سمجھتا ہے۔
معاشی صورتحال اور ترقی:
ایاز صادق نے بتایا کہ پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے اور اب ترقی کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ شروع ہے، لیکن اس کے خلاف سازشیں بھی ہورہی ہیں۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز مل کر ان سازشوں کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
قانونی اور داخلی امور:
آزاد کشمیر میں قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قومی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
پنجاب اور شہری ترقیات:
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے فنڈز کی فراہمی میں کمی نہیں کی۔ شہر کی سڑکیں پختہ بنانے اور سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے وعدے بھی کیے۔یہ خطاب ملک کے داخلی اور خارجی مسائل، سلامتی، معیشت اور سیاست کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش ہے۔
Copy