قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کے خلاف بات کی اجازت نہیں ہوگی: اسپیکر ایاز صادق

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کے خلاف بات کی اجازت نہیں ہوگی: اسپیکر ایاز صادق

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے حالیہ بیان سے متعلق ہے، جو انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے دورے کے موقع پر دی۔ 

اسپیکر ایاز صادق نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور افواج پاکستان کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق، آئین کے دائرے میں رہ کر بحث کی جا سکتی ہے، مگر کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ، تشدد یا ملک دشمن بیانات کی اجازت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کی اجازت ہے بشرطیکہ اس میں آگ لگانے یا جانوں کے ضیاع جیسے اقدامات شامل نہ ہوں۔اسپیکر نے کہا کہ وہ حکومت یا اپوزیشن میں نہیں بلکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے اور ملکی مفاد اور آئین کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں عدلیہ اور ججز کے کردار پر تنقید کی اجازت نہیں ہوگی، اور افواج پاکستان کے خلاف بھی کوئی بات نہیں ہونے دی جائے گی۔
اسپیکر نے پاکستان کی معیشت، زرمبادلہ ذخائر (جو 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں) اور بین الاقوامی تعلقات (امریکا، چین، روس، ترکی اور سعودی عرب) کی جانب بھی اشارہ کیا، اور کہا کہ ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں جن سے لڑنا عوام کا کام ہے۔دورے کے دوران انہوں نے این سی اے کے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ طلبہ تحقیق کے بعد جو کام کرتے ہیں وہ تخلیقی اور قیمتی ہوتا ہے۔اس بیان کا مقصد اسمبلی کے اندر قومی سالمیت، عدلیہ اور فوج کی حرمت کے تحفظ کے لیے واضح موقف کا اظہار کرنا اور طلبہ میں قانون کی حدود کے اندر احتجاج اور اظہار رائے کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔