لاہور: مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان ریموٹ کنٹرول جمہوریت کے ذریعے آگے نہیں بڑھ سکتا اور ملک درست سمت میں نہیں جا رہا، اسی لیے وہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔
وہ خواجہ محمد رفیق شہید کے 52 ویں یوم شہادت کے موقع پر تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔سعد رفیق نے کہا کہ ملک میں سیاسی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور حکومتیں مسلسل کمزوری کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کو سیاست میں درپیش بحرانوں کے باعث صحیح سمت ملنا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں جو شخص اس وقت بیٹھا ہے، اس کا کشمیر کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس مسئلے پر ان کی طرف سے مشورہ نہ دینے کا نتیجہ آج سامنے آ رہا ہے۔سعد رفیق نے کہا کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ کا عمران خان میں کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ ان کا دھیان پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر ہے، اور ہمیں اپنی طاقت کا اندازہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنے داخلی مسائل پر قابو پانے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے سب کو متحد ہو کر بات کرنی ہوگی۔صحافی اور دانشور سہیل وڑائچ نے کہا کہ سعد رفیق کی بات درست ہے کہ آئین اور جمہوریت پر عمل کر کے ہی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت ضروری ہے اور سیاسی بحرانوں سے نکلنے کا واحد حل آئین کے تحت ہے۔محمود الرحمان شامی نے کہا کہ اگر پاکستان میں سیاستدان اپنے ذاتی مفادات سے بالا ہو کر ایک دوسرے سے مفاہمت کریں، تو ملک میں استحکام آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر سیاسی طاقتوں سے دور رہ کر اپنی جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا۔سابق وزیر سعد رفیق نے دھرنوں کے حوالے سے کہا کہ 2014 میں ہونے والے دھرنے کی مخالفت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ پاکستان میں حکومت صرف ووٹ کے ذریعے آنی چاہیے، نہ کہ کسی غیر جمہوری طریقے سے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ وہ ہمیں محبت سے دیکھ رہا ہے اور ہمیں بھی محبت سے جواب دینا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے آپس میں اتحاد نہ کیا تو جیل کی باریاں لگتی رہیں گی اور پاکستان کا مستقبل مزید مشکلات کا شکار ہو گا۔