مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن، کون جیت رہا ہے؟ خواجہ سعد رفیق کا سوال

مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن، کون جیت رہا ہے؟ خواجہ سعد رفیق کا سوال

لاہور: سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے مقتدرہ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشمکش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس لڑائی میں کوئی نہیں جیت رہا، بلکہ ناانصافی، غربت، لاقانونیت، انتشار، انتقام، تعصبات، آمرانہ رویے اور انتہا پسندی کو فروغ مل رہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے سوال کیا کہ مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن میں سے آخر کون کامیاب ہو رہا ہے؟ ان کے مطابق بدقسمتی سے ملک میں ایسے مسائل بڑھ رہے ہیں جن کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جن مسائل سے قوم کو نجات دلانے کی ذمہ داری ہے، ان کے خلاف لڑنے والے فریق خود آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔ قوم کو ان مشکلات سے کون، کب اور کیسے نجات دلائے گا؟ ماضی کی غلطیوں سے سبق کیوں نہیں سیکھا جا رہا؟

ذاتی اور گروہی مفادات پر تنقید
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اناؤں اور ذاتی و گروہی مفادات کے لیے اپنی توانائیاں اور وسائل اندرونی جھگڑوں میں ضائع کرنے والے نجات دہندہ نہیں ہو سکتے۔ان کے بقول گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اختیارات کے ارتکاز اور مخالفین کو ہر قیمت پر نیچا دکھانے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لوگوں کے صبر اور برداشت کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اس لیے حالات کو مزید بگڑنے سے پہلے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔

آئین کی بالادستی اور قومی اتحاد پر زور
سابق وفاقی وزیر نے ملک کے تمام حصوں سے اہلِ دانش اور دردِ دل رکھنے والے افراد کو آواز بلند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی بالادستی اور قومی پرچم کی حرمت پر یقین رکھنے والوں کو متحد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بیداری کی لہر پیدا کرنے اور ایمان، آئین، انصاف، امن، اتحاد، اصلاحات اور استحکام کا علم بلند کرنے کی ضرورت ہے۔خواجہ سعد رفیق کے مطابق ایک دوسرے سے خوف زدہ رہنا، بدگمان ہونا یا باہم لڑتے رہنا قوم کے درمیان گہری دراڑیں پیدا کرتا ہے، اور ایسے حالات میں ایک بڑا بحران تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

مسائل کے حل کے لیے کیا ضروری ہے؟
خواجہ سعد رفیق نے اپنے بیان میں ملک کو درپیش مسائل سے نکلنے کے لیے آئین، قانون اور میرٹ کی حکمرانی، عام آدمی کی نمائندہ جمہوریت، مکالمے اور انصاف کے ذریعے تنازعات کے حل، شفاف حکمرانی اور مالیاتی نظم و ضبط کے نفاذ کو ضروری قرار دیا۔