جامعات،تعلیمی بورڈز میں آڈیٹرز کی غیر قانونی بھرتیاں

محکمہ فنانس آڈٹ رپورٹ تیار ہونے تک کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا 
لاہور( کرائم رپورٹر)آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سرکاری یونیورسٹیوں اور تعلیمی بورڈز میں آڈیٹرز کی غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 2022-2023 میں بھرتیاں کی گئیں ۔ آڈیٹرز، آڈٹ ڈیپارٹمنٹ سے ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنا قانون کے مطابق لازم ہے۔محکمہ فنانس نے تعلیمی اداروں میں آڈیٹرز تعینات کرتے وقت قوانین کو نظر انداز کیا۔دستاویزات میں اعتراضات کے مطابق 33 سرکاری جامعات اور 9 بورڈز میں غیر قانونی آڈیٹرز بھرتی ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی ، جی سی یو اور یونیورسٹی ہوم اکنامکس سر فہرست ہیں۔اسی طرح ایجوکیشن یونیورسٹی لاہور، یو ای ٹی، لاہور کالج فار و یمن یونیورسٹی ،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ، غازی یونیورسٹی ڈی جی خان، یونیورسٹی آف گجرات،ویمن یونیورسٹی ملتان،یونیورسٹی آف کمالیہ ، یونیورسٹی آف جھنگ ،یونیورسٹی آف لیہ،محمد نواز شریف یو ای ٹی ملتان ، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان ، بابا گرونانک سمیت دیگر ادارے غیر قانونی بھرتیوں کی فہرست میں شامل ہیں جب کہ محکمہ فنانس آڈٹ رپورٹ تیار ہونے تک کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔