بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سرکاری دورے پر امریکا پہنچے ہیں، تاہم ان کی واشنگٹن آمد کے ساتھ ہی خالصتان تحریک کے حامیوں نے احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا۔
مظاہرین نے بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور ایس جے شنکر کی امریکا میں ملاقاتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ احتجاج بھارتی سفارت خانے اور امریکی محکمہ خارجہ کے باہر منعقد کیا گیا۔مظاہرین میں سکھ برادری کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں اور ان کی عالمی سطح پر سکھوں کے قتل کی حمایت کی جا رہی ہے۔ احتجاج کے دوران بھارتی پرچم پر تلواروں سے حملہ کیا گیا، جس سے ان کی شدید ناراضگی اور غصے کا اظہار ہوا۔ڈاکٹر بخشش سنگھ سندھو، جو کہ خالصتان تحریک کے ایک رہنما ہیں، نے ایس جے شنکر پر سکھوں کے حقوق کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ بھارت میں سکھوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ ایس جے شنکر کی عالمی سطح پر سکھوں کے قتل کی حمایت سے دنیا بھر میں بھارت کی غیر انسانی پالیسیوں کی عکاسی ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ عالمی جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں اور ان کے اقدامات سکھوں کے قتل کے حمایتی ہیں۔واشنگٹن میں ایس جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقات کے بعد خالصتان تحریک کے حامیوں نے ان کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے عالمی سطح پر ایس جے شنکر کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بھارت کی حکومت سکھوں کے حقوق کو دبانے کی سازش کر رہی ہے۔مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کی جائے اور سکھوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ اس احتجاج میں حصہ لینے والوں نے کہا کہ وہ سکھوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔