کراچی میں میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس ہوا، جس میں کمیشن کے چیئرمین جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی، اور حقائق سامنے لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی سب کے سامنے ہوگی اور کوئی بات چھپائی نہیں جائے گی۔ جو بھی شخص چاہے، کمیشن میں آکر کارروائی دیکھ سکتا ہے۔جسٹس عمر سیال نے بتایا کہ کمیشن کے پاس تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 30 دن کا وقت ہے، اس دوران حتمی نتائج تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ کمیشن کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور عوام کا اداروں پر اعتماد بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد سے رابطہ کرنے کے لیے اشتہار جاری کیا جائے گا، اور ایک آفیشل ای میل اور واٹس ایپ نمبر بھی فراہم کیا جائے گا۔ جو کوئی بھی اہم معلومات فراہم کرے گا، اسے ایک لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔مزید برآں، کمیشن نے ہدایت کی کہ اس مقام پر بھی نوٹس چسپاں کیا جائے جہاں میر رضا کی لاش ملی تھی۔ سندھ حکومت کو کیس سے منسلک پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست سمیت تمام شواہد سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اجلاس میں وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ میر علی رضا 28 جولائی کی صبح 4 بجے گھر سے نکلا تھا، اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق وہ زندہ تھا۔ اس کے مطابق، علی رضا کی لاش 29 جولائی کو صبح 11 بج کر 50 منٹ پر مسجد خضرہ کے قریب ملی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گھر سے جانے کے 11 گھنٹے بعد ایف آئی آر درج کی گئی تھی، اور پوسٹ مارٹم مقتول کے والد کی موجودگی میں ہوا، جسے ڈاکٹر اسامہ نے کیا۔
نرسری کے ملازمین یاسر اور قیصر کی نشاندہی پر لاش برآمد ہوئی تھی، جنہیں بیان کے لیے طلب کیا گیا ہے۔جسٹس عمر سیال نے ہدایت دی کہ میر حسین علی کمیشن کو ابتدائی تین دنوں کی معلومات فراہم کریں گے، اور سندھ حکومت کے فوکل پرسن مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تفتیشی افسر سراج لاشاری کو بھی معاونت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس کی کارروائی منگل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ دوران اجلاس، میر رضا کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔