اسلام آباد ہائی کورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر عام قیدیوں کی نجی ہسپتال منتقلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، حکومت کی مخالفت
اسلام آباد(آئی این پی ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین عام قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی اور بیرون ملک فیملی سے ٹیلی فونک گفتگو کروانے کے کیس میں درخواست گزاروں کے وکلا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔دوران سماعت، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے تین قیدیوں کو پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی درخواستوں کی مخالفت کر دی۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیے کہ انگریز نے جو مینوئل بنائے ہیں ہم اسی پر عمل کر رہے ہیں، اب ہم پنجاب میں قانون میں تبدیلی کر رہے ہیں، انڈین پینل کوڈ اور ہمارے قانون میں انڈیا پاکستان کا ہی فرق ہے۔ جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دئیے کہ اگر کسی قیدی کو بیماری لاحق ہو جائے تو کیا کریں گے، قیدی کی بیماری سے آپ نہیں کھیل سکتے‘جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دئیے کہ قانون میں کہاں لکھا ہے فیملی سے بات نہیں کروا سکتا بے شک وہ بیرون ملک ہی نا ہو۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیے کہ قانون میں لکھا ہے جو پاکستان میں ہے اس کی ٹیلی فونک بات کروائیں گے، اگر خدا نخواستہ ایسی بیماری ہو کہ علاج سرکاری اسپتال میں نہیں ہو سکتا تو پھر اسی وقت دیکھا جائے گا۔جسٹس محمد آصف نے سوالات اٹھائے کہ اگر کسی قیدی کیلئے چاہتے ہوں کہ کراچی سے کوئی ڈاکٹر آجائے تو پھر کیا ہوگا؟ اگر کوئی قیدی آخری اسٹیج پر ہو اور مرنے والا ہو تو کیا قانون کو دیکھیں گے؟ اگر کوئی سزائے موت کا قیدی آخری خواہش کا اظہار کر دے تو پھر کیا ہوگا؟ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے بھی قیدیوں کو پرائیویٹ اسپتال میں منتقلی کی درخواستوں کی مخالفت کر دی۔