امریکا کی ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں کو وارننگ جاری

امریکا کی ایرانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں کو وارننگ جاری

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ جو کمپنیاں ایران کی فضائی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری تعاون جاری رکھیں گی، وہ امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدام ایران پر دباؤ کی جاری پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد تہران کے مالی اور لاجسٹک نیٹ ورک کو محدود کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض ایرانی ایئرلائنز پر الزام ہے کہ وہ خطے میں حساس سرگرمیوں یا مخصوص گروہوں کی معاونت میں استعمال ہو رہی ہیں۔دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی فضائی کمپنیاں مکمل طور پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق آپریشنز کر رہی ہیں، اور امریکی اقدامات کو سیاسی دباؤ قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی پابندیاں عالمی کمپنیوں کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں، خصوصاً وہ ادارے جو بین الاقوامی ہوا بازی، تجارت یا سپلائی چین سے منسلک ہیں۔واضح رہے کہ امریکی پابندیوں میں اکثر سیکنڈری سینکشنز شامل ہوتے ہیں، جن کے تحت غیر امریکی کمپنیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں اگر وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط برقرار رکھیں۔