اے آئی خطرے کے بڑھتے اثرات، ٹیلر سوئفٹ کا اقدام

اے آئی خطرے کے بڑھتے اثرات، ٹیلر سوئفٹ کا اقدام

 امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ  نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف اپنی آواز اور شناخت کے قانونی تحفظ کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹار نے اے آئی کے ذریعے جعلی آڈیو، ویڈیو اور ڈیپ فیک مواد کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر باضابطہ قانونی کارروائی شروع کر دی۔

رپورٹس کے مطابق 36 سالہ گلوکارہ کی کمپنی نے 24 اپریل کو امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس میں 3 نئی ٹریڈ مارک درخواستیں دائر کیں۔ ان میں 2 ساؤنڈ مارکس شامل ہیں جن میںٹیلر سوئفٹ  کی مخصوص آواز میں بولے گئے جملے "Hey, it's Taylor Swift" اور "Hey, it's Taylor" شامل ہیں، جبکہ تیسری درخواست ان کی ایک مخصوص اسٹیج تصویر اور بصری شناخت کے تحفظ سے متعلق ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام اے آئی کی مدد سے تیار کیے جانے والے جعلی اشتہارات، سیاسی پیغامات، ڈیپ فیک ویڈیوز اور مصنوعی آڈیو کلوننگ کے خلاف اضافی قانونی ڈھال فراہم کر سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹیلر سوئفٹ  کی شناخت اور آواز سے ملتے جلتے کئی جعلی مواد آن لائن گردش کرتے رہے ہیں، جس پر ان کی ٹیم نے سخت تشویش ظاہر کی تھی۔

یہ قدم اٹھانے کے بعد ٹیلر سوئفٹ  اُن ہالی ووڈ شخصیات کی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں جو اے آئی کے غلط استعمال کے خلاف اپنے حقوق کے قانونی تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ اسی نوعیت کی کوشش Matthew McConaughey بھی کر چکے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی اس پیش رفت کو بھرپور حمایت مل رہی ہے، جہاں مداح اور صارفین اسے اے آئی کے بے قابو استعمال کے خلاف ایک ضروری اور بروقت قدم قرار دے رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اب فنکاروں ہی نہیں بلکہ عام افراد کی آواز اور شناخت کے تحفظ کے لیے بھی واضح عالمی قوانین کی ضرورت ہے۔