حکومتی ارکان کا بلدیاتی الیکشن موخر کرنے کا مشورہ
حلقہ بندیوں کے بعد شیڈول جاری ہونے کا امکان،لوکل گورنمنٹ ایکٹ عدالت میں چیلنج ہونے سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ،مہنگائی بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ، ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوامی حمایت کے حصول کی کوششیں
لاہور( خصوصی رپورٹ )بلدیاتی الیکشن میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے ،پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 11 برس گزرنے کے باوجود تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں صوبے میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں منعقد ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی حکومتیں آنے کے باوجود اس اہم جمہوری عمل کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔ موجودہ حکومت کی جانب سے بارہا یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں کہ رواں سال بلدیاتی انتخابات ہر صورت کرائے جائیں گے اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنایا جائے گا، تاہم عملی پیش رفت سست روی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا عمل شروع کر رکھا ہے جس کی تکمیل کے بعد انتخابی شیڈول جاری کیے جانے کی توقع ہے، مگر دوسری جانب پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے، جس کے باعث قانونی پیچیدگیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ عدالت نے بھی حکومت سے آئینی تقاضوں کے مطابق قانون میں ترامیم نہ کرنے پر وضاحت طلب کی ہے، جبکہ حکومتی نمائندوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر اور براہ راست ووٹنگ کے ذریعے ہوں گے۔ اس تمام صورتحال کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور عوامی ناراضی بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کے باعث بعض حکومتی ارکان خود انتخابات مؤخر کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔